سرحدی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد طورخم بارڈر دوسرے روز بھی بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان افغانستان طورخم سرحد پر بدھ (چھ ستمبر) کی صبح سرحدی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اہم گزرگاہ آج دوسرے روز بھی بند ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم کے مقام پر گزرگاہ کلیدی تجارتی اہمیت کی حامل ہے، جس کے راستے افغانستان سے کوئلہ آتا ہے اور پاکستان سے اشیائے خورد و نوش افغانستان جاتی ہیں۔

افغان طالبان نے طورخم سرحد پر حملے میں پہل کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے، لیکن پاکستان کی طرف سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

فائرنگ کا واقعہ افغان حکام کی جانب سے مرکزی سرحدی گزرگاہ کے قریب ممنوعہ علاقے میں اپنی طرف چیک پوائنٹ کی تعمیر شروع کیے جانے کے بعد پیش آیا۔

پاکستانی حکام نے بتایا کہ اس علاقے میں افغان حکام کی چیک پوائنٹ پہلے ہی موجود ہے جسے لارم پوسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے لیکن انہوں نے پاکستانی حکام سے بات چیت کیے بغیر چھوٹی پہاڑی پر ایک اور چوکی کی تعمیر شروع کر دی۔

حکام کا کہنا تھا کہ بارڈر سیکیورٹی حکام نے فائرنگ شروع ہونے سے کچھ منٹ قبل بھی ایک میٹنگ کی تھی۔

تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ میٹنگ کا ایجنڈا کیا تھا اور کس بات پر دونوں ممالک کی سرحدی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔

ایف سی اہلکار کے علاوہ ایک کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ بھی اس وقت شدید زخمی ہو گیا جب فائرنگ شروع ہونے کے بعد ایک تیز رفتار گاڑی نے اسے ٹکر مار دی۔

پاکستان میں مقامی انتظامیہ کے ایک عہدیدار ارشاد مہمند نے اے ایف پی کو بتایا کہ افغان فورسز نے ایسے علاقے میں چیک پوائنٹ قائم کرنے کی کوشش کی جہاں دونوں فریق کی جانب سے کوئی چوکی قائم نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اعتراض کے بعد افغان فورسز نے فائرنگ کی جس کے بعد پاکستانی سرحدی فورسز نے جوابی فائرنگ کی۔

افغان طالبان حکومت نے پاکستان پر واقعہ کا الزام عائد کیا، افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار میں انفارمیشن اینڈ کلچر ڈائریکٹوریٹ کے ایک عہدیدار قریشی بدلون نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے افغانی حکام پر اس وقت حملہ کیا جب افغان فورسز نے ایکسیویٹر کے ذریعے اپنی پرانی چوکی کو دوبارہ فعال کرنا چاہا۔“

انہوں نے کہا کہ حملے کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا لیکن تاحال صحیح اعداد وشمار معلوم نہیں ہیں۔

طالبان حکومت کی وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے کہا کہ جھڑپ کی وجوہات اور اس طرح کے واقعات کے اعادے کو روکنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

پاکستانی پولیس اہلکار نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ بدھ کی دوپہر تک فائرنگ کا سلسلہ رک گیا لیکن سرحد بند رہی، "ماحول کشیدہ ہے" اور "دونوں جانب کی افواج چوکس ہیں۔"

طورخم بارڈر ایک اہم تجارتی راستہ ہے جہاں سے افغانستان کوئلے کے ٹرک برآمد کرتا ہے اور پاکستان سے خوراک و دیگر سامان برآمد کرتا ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران بارڈر کئی بار بند کیا گیا جس میں فروری کی بندش بھی شامل ہے جس میں سامان سے لدے ہزاروں ٹرک کئی روز تک بارڈر کے اطراف پھنسے رہے۔

دونوں ممالک شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں، افغانستان امریکی حمایت حکومت کے خاتمے کے بعد امداد میں کمی کا شکار ہے جب کہ پاکستان اندورنی مسائل اور ہوش ربا مہنگائی سے نبرد آزما ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں