سوشل میڈیا پر پانچ ہزار روپے پر پابندی کا جعلی نوٹی فکیشن گردش کرنے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان میں سوشل میڈیا پر وزارتِ خزانہ سے منسوب ایک جعلی نوٹی فکیشن گردش کر رہا ہے جس میں لکھا ہے کہ 30 ستمبر سے ملک بھر میں پانچ ہزار کے کرنسی نوٹ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

جمعرات کو سوشل میڈیا پر پھیلنے والے جعلی نوٹی فکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فیک نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے مالی نظام کے استحکام اور غیر قانونی مالی سرگرمیاں روکنے کے لیے پالیسی میں اہم تبدیلی کا اعلان کردیا ہے۔

گمراہ کن جعلی نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ شہری اور ادارے اپنے پاس موجود پانچ ہزار کے نوٹ 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل بینکوں سے تبدیل کروا لیں۔

جعلی نوٹی فکیشن کے مطابق ’30 ستمبر 2023 کے بعد یہ نوٹ صرف حکومتِ پاکستان کے متعین کردہ دفاتر اور مرکزی بینکوں میں قابلِ قبول ہوں گے۔‘

اس نوٹی فکیشن کے پھیلنے کے بعد نگراں وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا ایک ٹویٹ سامنے آیا جس میں انہوں نے ایسی تمام خبروں کی تردید کی۔ انہوں نے لکھا کہ ’یہ جعلی ہے۔ حکومتِ پاکستان ایسے جھوٹے نوٹی فکیشن پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔‘

ریڈیو پاکستان نے بھی مذکورہ نوٹی فکیشن شیئر کیا اور کہا کہ ’سوشل میڈیا میں ایک جعلی نوٹی فکیشن زیر گردش ہے‘۔ سرکاری نشریاتی ادارے نے کہا کہ ’یہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ فیک نیوز پھیلانے کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو مسترد کرے‘۔

وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے ایکس پر فیکٹ چیک اکاؤنٹ کی جانب سے بھی جعلی نوٹی فکیشن کو مسترد کر دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ جعلی خبریں پھیلانا نہ صرف غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے بلکہ یہ قوم کی بھی توہین ہے، ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ رویہ مسترد کرے۔

یہ جعلی نوٹی فکیشن کس نے پھیلایا اس کی تحقیق ہونا ابھی باقی ہے لیکن پانچ ہزار کے کرنسی نوٹ پر پابندی یا ڈیمونیٹائزینشن سے متعلق افواہیں اکثر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں