پاکستان میں چار نئے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کے آثار دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے محکمہ صحت کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ ماہ اگست کے دوران میں جمع کیے گئے چار نئے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کے آثار پائے گئے ہیں۔اس کے بعد رواں سال مثبت نمونوں کی مجموعی تعداد 21 ہوگئی ہے۔

پاکستان اور افغانستان دنیا بھر میں صرف دو ایسے ممالک ہیں جہاں پولیو بچّوں کی صحت اور فلاح و بہبود کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ رواں سال پاکستان میں پولیو کے صرف دو مصدقہ کیس سامنے آئے ہیں جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ اس سے پولیو کے خاتمے میں پیش رفت کا اشارہ ملتا ہے۔تاہم ملک کے کئی حصوں میں اب بھی پولیو کے مثبت ماحولیاتی نمونے سامنے آرہے ہیں۔

اسلام آباد میں قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’پاکستان کی قومی پولیو لیبارٹری نے اگست 2023 میں جمع کیے گئے چار ماحولیاتی (سیوریج) نمونوں میں ٹائپ ون وائلڈ پولیو وائرس (ڈبلیو پی وی 1) کی نشان دہی کی تصدیق کی ہے۔ان میں سے تین نمونے ضلع پشاور اور ایک کراچی کے علاقے کیماڑی سے لیا گیا تھا‘‘۔

رواں سال پشاور سے پولیو وائرس کے 10 مثبت نمونے جمع کیے گئے ہیں۔ان میں سے کئی نمونوں کا افغانستان میں شناخت ہونے والے کلسٹرز کے ساتھ جینیاتی تعلق کا پتا چلا ہے۔

کراچی کے علاقے کیماڑی میں واقع محمد خان کالونی سے ایک مثبت ماحولیاتی نمونہ اکٹھا کیا گیا جو جینیاتی طور پر افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار کے علاقے باٹی کوٹ کے ایک کلسٹر سے جڑا ہوا ہے۔ اس دریافت سے اس سال ملک کے سب سے بڑے شہر سے جمع کیے گئے مثبت نمونوں کی مجموعی تعداد دو ہوگئی ہے۔

پاکستان نے 7 سے 13 اگست تک ملک کے 65 اضلاع میں پولیو کے خاتمے کی مہم کا انعقاد کیا تھا۔اس کے دوران میں پانچ سال سے کم عمر کے 80 لاکھ سے زیادہ بچّوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں