پاکستان کا چترال حملے پر افغانستان سےباضابطہ احتجاج

سینئر افغان سفارت کار کو دفتر خارجہ طلب کر کے ڈی مارش کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان نے افغان سرحد سے چترال پر حملے اور طورخم سرحد پر بلااشتعال فائرنگ پر سینئر افغان سفارت کار کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

ذرائع کے مطابق دفترخارجہ میں سینئر افغان سفارتکار کی طلبی ہوئی، جہاں پاکستان نے طورخم میں بلا اشتعال فائرنگ اور چترال میں دہشتگردانہ حملے پر سخت احتجاج کیا۔

وزارت خارجہ حکام کی جانب سے افغان سفارتکار کو احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چھ ستمبر 2023 کو جدید ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کے ایک بڑے گروپ نے ضلع چترال کے جنرل علاقے کالاش میں پاک افغان سرحد کے قریب واقع دو پاکستانی فوجی چوکیوں پر حملہ کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان کے نورستان اور کنڑ صوبوں کے گووردیش، پتیگال، برگ متل اور بتاش کے علاقوں میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور ارتکاز کا پتا پہلے ہی لگا لیا گیا تھا اور عبوری افغان حکومت کے ساتھ یہ معلومات بروقت شیئر بھی کی گئی تھی۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ہماری پوسٹیں پہلے ہی ہائی الرٹ پر تھیں۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق بہادر فوجیوں نے بہادری سے مقابلہ کیا اور حملوں کو پسپا کرتے ہوئے دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ فائرنگ کے تبادلے میں بارہ دہشت گرد مارے گئے جب کہ دشمن کی بڑی تعداد شدید زخمی ہوئی۔ تاہم فائرنگ کے اس شدید تبادلے میں چار بہادر سپاہیوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کو گلے لگا لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں