ڈاکٹر عارف علوی کی مدت صدارت کا آخری روز، ایوان صدر کا نیا مکین کون ہو گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ڈاکٹر عارف علوی پانچ سالہ مدت پوری کرنے والے ملک کے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے چوتھے صدر بن جائیں گے۔ انہوں نے نو ستمبر 2018ء کو عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور آج بروز جمعہ بارہ بجے نو ستمبر کی تاریخ ہوتے ہی ان کے عہدے کو پانچ برس مکمل ہو جائیں گے جس کے بعد ان کی مدت صدارت باضابطہ طور پر ختم ہو جائے گی۔

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی نئے صدر منتخب ہونے تک ایوان صدر ہی کے مکین رہیں گے اور بطور صدر اپنی فرائض سر انجام دیں گے۔

ڈاکٹر عارف علوی کی پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ دیرینہ وابستگی ہے اور ان کا شمار سابق وزیر اعظم عمران خان کے قابلِ اعتماد دوستوں میں بھی ہوتا ہے۔

اس سے قبل تین صدور نے اپنی مدت مکمل کی ہے، جن میں چوہدری فضل الہٰی (پانچویں صدر، 1973 تا 1978)، آصف علی زرداری (گیارہویں صدر، 2008 تا 2013) اور ممنون حسین (بارہویں صدر، 2013 تا 2018) شامل ہیں، لہٰذا ڈاکٹر عارف علوی مدت پوری کرنے والے مسلسل تیسرے صدر ہوں گے۔

صدر کے انتخاب کے لیے ضروری الیکٹورل کالج کی عدم موجودگی میں ڈاکٹر عارف علوی کے غیر معینہ مدت تک عہدے پر رہنے کا امکان ہے، اس سے وہ ملکی تاریخ کے سربراہان مملکت میں سے ایک بن جائیں گے جن کی مدت میں توسیع ہو گی، اگرچہ فضل الہٰی 16 ستمبر 1978 کو ضیاء الحق کے صدر بننے سے قبل ایک مہینہ اضافی عہدے پر رہے۔

قانون کے تحت دونوں ایوانوں (قومی اسمبلی اور سینیٹ) اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی جانب سے صدر مملکت کو منتخب کیا جاتا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 44 (1) کے مطابق صدر اپنے عہدہ کا چارج سنبھالنے کے دن سے 5 سال کی مدت کے لیے اپنے عہدے پر فائز رہیں گے، لیکن وہ اس عہدے پر اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک ان کے جانشین کا انتخاب نہیں ہو جاتا۔

عام انتخابات کے انعقاد پر پراسرایت ہے، الیکشن کمیشن بظاہر جنوری کے آخر میں کہیں انتخابات کرانے کا منصوبہ بنا رہا ہے، اس لیے ڈاکٹر عارف علوی کتنی دیر تک عہدے پر فائز رہیں گے، اس کا صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔

اپریل 2022 میں اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے سے قبل تک صدر عارف علوی ایوان صدر کی ذمہ داریاں ہموار طریقے سے نبھاتے رہے لیکن اپنی پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد نئی حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے۔

اپنی پوری مدت کے دوران ڈاکٹر عارف علوی تنازعات کا شکار رہے، ناقدین نے ان پر آئین کے ساتھ کھیلنے اور 77 آرڈیننس جاری کر کے ایوان صدر کو ’آرڈیننس فیکٹری‘ میں تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا۔

صدر عارف علوی کو ملک کے سب سے بڑے آئینی عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے کئی اعتبار سے آئینی تحفظ حاصل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کے دیگر تمام صف اوّل کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات اور ان کی گرفتاریوں کے باوجود عارف علوی محفوظ رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں