اوپن پاکستان کے حوالے سے تاجروں کے لیے نئے آسان ویزا رجیم کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے اوپن پاکستان کے حوالہ سے نئی ویزا رجیم کے حوالہ سے اہم فیصلے کئے ہیں، جس کے تحت کاروباری افراد یا سرمایہ کار بیرون ملک سے بین الاقوامی کاروباری اداروں کی دستاویز پر پاکستان کا ویزا آسانی سے حاصل کرسکیں گے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’اے پی پی‘‘ کے مطابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی اپیکس کمیٹی کے پانچویں اجلاس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے پلیٹ فارم سے آج اوپن پاکستان کے حوالے سے نئی ویزا رجیم کے متعلق انتہائی اہم فیصلے لئے گئے ہیں۔

نئی ویزا رجیم کے تحت کاروباری افراد اور کاروبار سے منسلک بیرون ملک مقیم لوگ اگر پاکستان آنا چاہیں تو ان ممالک یا بین الاقوامی کاروباری اداروں کی جانب سے جاری ایک دستاویز پر ان کو آسانی سے پاکستان کے تمام مشنز ویزا کا اجراء کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے تمام چیمبرز اور کاروباری افراد پاکستان سے باہر کسی فرد کو ایسی دستاویز جاری کریں گے اس کی بنیاد پر اس فرد کو ویزا کے اجراء میں آسانیاں ہوں گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ افراد کے ساتھ ساتھ درمیانے اور بڑے کاروباری اداروں سے منسلک افراد کو بھی یہ آسان ویزا رجیم کی سہولیات میسر ہوں گی۔ اس سے پاکستان کاروبار اور معیشت کے ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہا ہے۔

رواں برس جون میں تشکیل دی گئی خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا مقصد فیصلہ سازی کو تیز کرنا اور بیرونی دنیا بالخصوص خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

سابق وزیراعظم شہباز شریف کے دفتر نے 17 جون کو ایک نوٹیفکیشن میں کہا تھا کہ ’ایس آئی ایف سی کے قیام سے خلیجی عرب ممالک سے توانائی، آئی ٹی، معدنیات، دفاع اور زراعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری لانے کی کوشش کی جائے گی۔‘

اس کونسل، جس میں آرمی چیف اور دیگر عسکری رہنماؤں کو کلیدی کردار دیا گیا ہے، کا مقصد ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے متفقہ نقطہ نظر اختیار کرنا ہے۔

آٹھ اور نو ستمبر کو نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت اس کونسل کی ایپکس کمیٹی کا پانچویں اجلاس منعقد کیا گیا تھا، جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، نگران وفاقی کابینہ، صوبوں کے نگران وزرائے اعلیٰ اور دیگر حکام شریک ہوئے۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اجلاس کے دوران متعلقہ وزارتوں نے بڑے چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے ٹائم لائنز اور حل کا احاطہ کرتے ہوئے جامع منصوبے پیش کیے اور کمیٹی نے متفقہ طور پر اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام فیصلے ملک کے وسیع تر مفاد میں کیے جائیں گے اور اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے ناسور سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

بیان کے مطابق نگران وزیراعظم نے وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ کم عرصے میں عوام کی بہبود اور معاشی استحکام کے لیے اپنا کردار کریں اور وسط مدتی اور طویل المیعاد پالیسیاں بھی بنائیں.

اس موقعے پر آرمی چیف نے ملک کی ’اقتصادی بحالی‘ کے اس بڑے منصوبے کے لیے حکومت کی جاری کوششوں کے سلسلے میں فوج کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

نگران وزیر اعظم نے بھی ایکس پر اپنے پیغام میں اجلاس کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا: ’ہم اپنے مختصر دور میں ایسے اقدامات لینا چاہتے ہیں، جن سے ملکی معاشی مشکلات کم ہو سکیں اور عام آدمی کی زندگی بہتر ہو۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں