آئینی معاملات میں الجھا کر عدالت عظمی کو امتحان سے دوچار کیا گیا: چیف جسٹس پاکستان

جسٹس قاضی فائز اچھے انسان مگر بطور جج میری اور ان کی اپروچ مختلف ہے: عمر عطا بندیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ’آئینی ایشوز میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا۔ فروری 2023 میں سپریم کورٹ کے سامنے کئی آئینی مقدمات آئے۔‘

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کا نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا بطور چیف جسٹس آخری بار نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کر رہا ہوں، گزشتہ سال اس تقریب میں عدالت کی ایک سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی تھی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے بتایا کہ ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزار مقدمات نمٹائے، اس سے پہلے ایک سال میں نمٹائے گئے مقدمات کی زیادہ سے زیادہ تعداد 18 ہزار تھی، کوشش تھی کہ زیر التوا مقدمات 50 ہزار سے کم ہو سکیں، زیر التوا مقدمات کی تعداد میں 2 ہزار کی کمی ہی کر سکے۔

تقریب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت سپریم کورٹ کے 15 جج موجود تھے جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی بیرون ملک ہونے کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے۔

پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تمام ساتھی ججوں کا اُن کے ساتھ برتاؤ بہت اچھا رہا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جہاں آزاد دماغ موجود ہوں وہاں اختلاف ہوتا ہے، میرے دائیں جسٹس قاضی فائز عیسی بیٹھے ہیں جو بہت اچھے انسان ہیں، میری اور ان کی اپروچ الگ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ صحافی معاشرے کی کان اور آنکھ ہوتے ہیں، صحافیوں سے توقع ہوتی ہے وہ درست رپورٹنگ کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جہاں پر کوئی غلطی ہوئی اسے عدالت نے نظرانداز کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ڈیمز فنڈ قائم کیا گیا، اس فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگست میں بھی فنڈز میں رقم آنے کا مطلب عوام کا سپریم کورٹ پر اعتماد ہے۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ ڈیمز فنڈ کے اس وقت 18.6 ارب روپے نیشنل بنک کے ذریعے سٹیٹ بنک میں انویسٹ کیے گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیمز فنڈ کی نگرانی سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ کر رہا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فروری 2023 میں سپریم کورٹ کے سامنے کئی آئینی مقدمات آئے، آئینی ایشوز میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا، سخت امتحان اور ماحول کا کئی مرتبہ عدالت خود شکار بنی، جو واقعات پیش آئے انہیں دہرانا نہیں چاہتا لیکن اس سے عدالتی کارکردگی متاثر ہوئی، تمام واقعات آڈیو لیکس کیس میں اپنے فیصلے کا حصہ بنائے ہیں۔

قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری نے کہا جب سیاسی اور پارلیمانی نظام ناکام ہو جائے تو اس کا بوجھ بھی عدلیہ کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ’’موسم گرما کی تعطیلات کے باوجود سپریم کورٹ نے عام آدمی تک انصاف کی فراہمی کا عمل جاری رکھا، تعطیلات کے باوجود مسلسل مقدمات کی شنوائی کا سلسلہ جاری رکھنا لائق تحسین عمل ہے۔‘‘

عابد زبیری نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہمیں عدالت کی توجہ 90 دن میں انتخابات کرانے کے آئینی معاملہ کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں، الیکشن کمیشن حیلے بہانے کے ذریعے انتخاب آئینی مدت میں کروانے سے گریزاں ہے، الیکشن کمیشن کا یہ رویہ رائے دہی کے آئینی حق کے منافی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئین سے روگردانی پر آرٹیکل چھ کے تحت الیکشن کمیشن کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق اپنے فیصلے پر عملدرآمد کرانے کیلئے کوئی اقدم نہیں کیا، صدر مملکت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد انتخابات کا اعلان کریں۔

صدر سپریم کورٹ بار کا کہنا تھا آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی ایکٹ کی آڑ میں بنیادی حقوق کی پامالیاں ہو رہی ہیں، سویلین کا ملٹری ٹرائل غیر آئینی اور غیرقانونی ہے جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں، فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستوں کو فوری مقرر کیا جائے، عدلیہ اور ججز کی تضحیک وکلا برادری کبھی تسلیم نہیں کرے گی۔

ان کا کہنا تھا امید ہے نئے عدالتی سال میں سپریم کورٹ میں تقسیم کا تاثر ختم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے، نامزد چیف جسٹس سے امید ہے کہ وہ آئین و قانون پرعملدرآمد یقینی بنائیں گے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں