بلدیہ فیکٹری کے دو ملزمان کی پھانسی کی سزا برقرار: سندھ ہائی کورٹ

کراچی میں گیارہ ستمبر 2012 کو علی انٹرپرائز بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آتشزدگی سے 259 افراد جل کر جان گنوا بیٹھے تھے جب کہ سو سے زائد زخمی بھی ہوئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سندھ ہائی کورٹ نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں ملزمان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سنا دیا، ملزمان کی پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔

سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے رحمان بھولا اور زبیر چریا کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ملزمان کی پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دیا۔

عدالت نے عمر قید پانے والے چاروں ملزمان کی اپیلیں منظور کرلیں، انسداد دہشت گردی نے ملزم شاہ رخ، فضل، ارشد محمود اور علی محمد کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

ہائی کورٹ نے روئف صدیقی اور دیگر کی بریت کے خلاف سرکار کی اپیلیں بھی مسترد کردی ہے۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر دو رکنی بینچ نے 29 اگست کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے 2020 میں دو ملزمان کو سزا موت چار کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے ایم کیو ایم سابق سیکٹر انچارج عبدالرحمان بھولا، زبیر چریا کو سزائے موت سنائی تھی۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان ایم کیوایم روف صدیقی، عبدالستار، اقبال ادیب خانم اور عمر حسن کو عدم شواہد پر بری کر دیا تھا۔

سزا یافتہ ملزمان نے سزاؤں اور بری ہونے والے ملزمان کے خلاف پراسیکیوشن کے اپیل دائر کی تھی، سزا یافتہ ملزمان نے سزاؤں کے خلاف اورسرکار نے چار ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔

واضح رہے کہ11 ستمبر 2012 علی انٹرپرائز بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آتش زدگی سے 259 افراد جل کر جاں بحق 300 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں