طور خم بارڈر کی بندش پر افغان دفتر خارجہ کا بیان حیران کن ہے: ممتاز زہرہ بلوچ

پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے غلط استعمال کی ہرگز اجازت نہیں دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ طور خم بارڈر کی بندش پر افغان دفتر خارجہ کا بیان حیران کن ہے۔۔ افغان حکومت بارڈر کی بندش کی وجوہات کو بخوبی جانتی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے افغان وزارت خارجہ کے بیان پر رد عمل میں کہا کہ پاکستان اپنی سر زمین کے اندر کسی عمارت کی تعمیر کو قبول نہیں کر سکتا۔

چھ ستمبر کو افغان فوجیوں نے پر امن حل کی بجائے پاکستانی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کی ، بارڈر کے ٹرمینل کو نقصان پہنچایا ، اس قسم کی خلاف ورزیاں اور بلا اشتعال فائرنگ ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حدود تعمیرات ہماری خومختاری کے خلاف ہے۔ افغان فورسز نے نہ صرف انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانا بلکہ لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔

افغان فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ سے دہشت گرد عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ ہم نے کئی دہائیوں تک افغان عوام کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان وزارت خارجہ نے پاکستانی معیشت کے بارے میں نامناسب تبصرہ کیا۔ پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے غلط استعمال کی ہر گز اجازت نہیں دے گا۔

پاکستان مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین معاملات کو حل کرنے کا حامی ہے۔ امید ہے افغان حکام پاکستان کی سالمیت کا احترام کریں گے-

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں