جنوبی پاکستان میں، ما قبل تاریخ کے زمانے کے آلۂ موسیقی کے سُر معدومیت کے دہانے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سندھ: گذشتہ ہفتے اللہ جوریو مٹی کے ایک پیڑے کو اپنے چونرے کے اندر ایک برتن بنانے والے چرخے پر لے گیا اور اسے گول شکل میں گھمانا شروع کر دیا۔ پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر میں عموماً پتوں والی چھت کی ایک چھوٹی جھونپڑی ہوتی ہے جسے چونرا کہتے ہیں۔

اس کے بعد اس نے اپنی انگلیوں کی مدد سے مٹی کو ایک چھوٹی کھوکھلی گیند میں تبدیل کیا جس میں چار سوراخ ہوتے ہیں جسے بوریندو کہتے ہیں۔ یہ ایک موسیقی کا آلہ ہے جس میں سب سے بڑے سوراخ میں پھونک مارنے سے آواز پیدا ہوتی ہے جبکہ چھوٹے سوراخوں پر رکھی ہوئی انگلیوں کی پوریں سُروں کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتی ہیں۔

دور افتادہ گاؤں اللہ جوریو کھمبر میں تقریباً 60 سال سے بوریندو بنانے والے 76 سالہ شخص کے پاس اب صرف ایک گاہک ہے۔ یہ اسی ضلع کے قریبی گاؤں سے تعلق رکھنے والے 53 سالہ موسیقار ذوالفقار علی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم آلے کی طلب اور رسد دونوں میں کمی آئی ہے جس کی ابتدا وادی سندھ کے صدیوں پرانے موہنجو داڑو شہر سے ہوئی جو جنوبی ایشیا کے شمال مغربی علاقوں میں زمانہ قبل از تاریخ کی ثقافت ہے جو 3300 قبل مسیح سے 1300 قبل مسیح تک جاری رہی۔

جوریو جس کی بینائی ختم ہوتی جارہی ہے، کے لیے بوریندو تیار کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے چھ عشروں قبل علی کے والد میر محمد خان کے لیے ساز بنانا شروع کیا جو ایک موسیقار بھی تھے۔ اس وقت خان نے انھیں ایک خاکہ دکھایا تھا کہ یہ آلہ کیسا لگتا ہوگا جب موہنجو دڑو میں استعمال ہوتا تھا۔

جوریو نے عرب نیوز کو بتایا، "میرا چھوٹا بیٹا انہیں بنا سکتا ہے، اگر ذوالفقار آرڈر دے تو وہ پچاس، سو یا پانچ سو بھی بنا سکتا ہے لیکن یہ اشیاء اب مزید بنائی یا فروخت نہیں کی جاتیں۔"

جوریو نے وضاحت کی کہ بوریندو بنانے کے لیے ہنرمندی بلکہ وقت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

گیلی مٹی کو سخت دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے جس کے بعد اسے بھٹے میں دو سے تین دن تک پکایا جاتا ہے۔ ایک بار جب بورینڈو آگ پر پک کر تیار ہو جاتا ہے تو جوریو کی 72 سالہ بیوی جمیعت اور بہو مریم عبدالرحیم اس آلے کو مختلف رنگوں میں پینٹ کرتی ہیں تاکہ اسے حتمی شکل دی جا سکے۔

علی نے صدیوں پرانے آلے میں خود اپنی ایک تبدیلی متعارف کروائی جس میں اصل میں تین سوراخ تھے۔ انہوں نے بوریندو کی سُروں کی وسیع رینج تیار کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ایک اضافی سوراخ شامل کیا۔

علی نے عرب نیوز کو بتایا، "اس کی ساختی شکل [موہنجو داڑو میں بنائی گئی چیزوں سے ملتی جلتی ہے] لیکن اِس دور میں متنوع دھنوں میں اضافہ دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ اس [بوریندو] میں سُروں کی کمی تھی۔ اس لیے میں نے بیٹھ کر سخت محنت کی اور سُر بڑھاتا رہا اور اسے سات سُروں تک پھیلانے میں کامیاب ہو گیا۔"

بوریندو کے تیسری نسل کے سازندہ علی 2021 میں صدرارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے والد کو یہ ایوارڈ 1990 میں ملا تھا۔

موسیقار نے بتایا کہ تقریباً چالیس سال پہلے بوریندو سندھ کے لوگوں میں مقبول تھا جب وہ جانور چراتے تھے یا کھیتوں کا سفر کرتے تھے۔

لیکن انہوں نے وضاحت کی، "یہ میرے والد ہی تھے جو اسے موسیقی میں لائے اور اسے موسیقی کے ساز کے طور پر متعارف کروایا۔"

اگرچہ علی کو امید ہے کہ ان کے خاندان کی نئی نسل بوریندو بجانے کی روایت کو زندہ رکھے گی لیکن یہ خدشہ بھی ہے کہ یہ جلد ہی ماضی کا حصہ بن جائے گا۔

انہوں نے کہا، "دنیا نے جدیدیت کو اپنا لیا ہے اور عصرِ حاضر کے آلات متعارف ہونے سے اسے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ میرے اور اللہ جوریو کی بدولت زندہ ہے۔"

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا، "اگر ہم اسے چھوڑ دیتے تو اس سے ایک اہم فرق پڑتا، شاید اس کا یہ نتیجہ ہوتا کہ کوئی بھی اسے نہ بجاتا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں