بلوچستان میں یرغمال فٹبالروں کے خاندان ان کی بازیابی کے لیے پرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی سے سبی جاتے ہوئے اغوا کر لیے جانے والے چھ مقامی فٹ بالرز کو ابھی تک بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہفتہ کے دن سولہ کھلاڑی ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ڈیرہ بگٹی سے ٹرائل دے کر آل پاکستان چیف منسٹر گولڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں حصہ لینے کے لیے سبی جا رہے تھے کہ انہیں اغوا کر لیا گیا تھا۔

ادھر بلوچ لبریشن ٹائیگرز ( بی ایل ٹی) نے ان کھلاڑیوں کے اغوا کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد کو اس لیے اغوا نہیں کیا گیا کہ یہ فٹ بال کے کھلاڑی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اغوا کار گاڑی میں سوار سولہ میں سے چھ کھلاڑیوں کو شناخت کرنے کے بعد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ مغوی کھلاڑیوں کا تعلق ڈیرہ بگٹی اور سوئی سے ہے۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ اغوا کی یہ واردات برہمداغ اور سرفراز بگٹی کی جماعتوں کے مابین لڑائی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔

 سوئی میں احتجاجی ریلی میں مظاہرین نے کھلاڑیوں کی بازیابی کا مطالبہ اور بلوچ ریپبلیکن پارٹی (بی آر اے) کے خلاف نعرے بھی لگائے: امام بگٹی
سوئی میں احتجاجی ریلی میں مظاہرین نے کھلاڑیوں کی بازیابی کا مطالبہ اور بلوچ ریپبلیکن پارٹی (بی آر اے) کے خلاف نعرے بھی لگائے: امام بگٹی

اغوا کیے گئے یہ چھ کھلاڑی ماضی براہمداغ بگٹی کی علاحدگی پسند تنظیم بلوچ ریپبلیکن پارٹی (بی آر پی) سسے وابستہ تھے۔ کچھ عرصہ قبل ہی ان نوجوانوں نے بی آر پی سے علاحدگی اختیار کرتے ہوئے ریاستی اداروں کے سامنے ہتھیار پھینک دیے تھے۔

نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو اغوا کرنے والے دہشت گرد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو بازیاب کروانے کے لیے فرنٹئیر کور بلوچستان نے علاقے کی ناکہ بندی بھی کی ہے اور آپریشن بھی کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں