آزاد کشمیر اور گلگت پر مشتمل بھارتی نقشے ناقابل قبول ہیں: پاکستان دفتر خارجہ

’’امریکی سفیر کا دورہ گوادر کو خوش آئند ہے، پاکستان سی پیک کے تحت تھرڈ پارٹی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتا ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا ہے کہ ہم آزادکشمیر اور گلگت پر مشتمل بھارتی نقشے مسترد کرتے ہیں، ایسے اقدامات کو اسلام آباد ناقابل قبول سمجھتا ہے۔

ممتاز زہرہ بلوچ نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کے نقشے میں دکھائے گئے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے زیر انتظام ہیں، ایسے کسی بھی نقشے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

ممتاز زبرہ بلوچ کے مطابق نگران وزیر خارجہ دولت مشترکہ یوتھ منسٹرز اجلاس میں شرکت کے لیے لندن کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ 18 ستمبر سے 23 ستمبر تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ طورخم سرحدپر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر پاکستان کئی سال سے عمل پیرا ہے اور پاکستان نے اپنے پڑوسی ملک کی مدد کے لئے نیک نیتی سے معاہدے پر عمل کیا، مگر اس معاہدے کے غلط استعمال پر پاکستان کو شدید تشویش ہے۔

ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان سے لاحق خطرات پر تشویش ہے، چترال سمیت دیگر جگہوں پر افغانستان سے دہشت گردانہ حملے ہوئے، افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے، پاکستان حالات کا جائزہ لے کر ہی طورخم سرحد کھولنے کا فیصلہ کرے گا۔

انہوں نے امریکی سفیر کا دورہ گوادر کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سی پیک کے تحت تھرڈ پارٹی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں