بھارتی زی فائیوکے لیے تیار کردہ پاکستانی ویب سیریز 'فرار' کا شکاگو میں عالمی پریمیئر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بھارتی ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم کے لیے بنائی گئی پاکستانی ویب سیریز 'فرار' نے اس ہفتے کے شروع میں شکاگو میں ہونے والے ساؤتھ ایشین فلم فیسٹیول 2023 میں جگہ حاصل کر لی ہے۔ اس کی مصنفہ نے بدھ کے روز کہا کہ یہ جنوبی ایشیا میں دورِ حاضر کی کارکن خواتین کو درپیش اُن چیلنجوں پر روشنی ڈالتی ہے جو شاذ و نادر ہی زیرِ بحث آتے ہیں۔

فرار چھے حصوں پر مشتمل سیریز ہے جو کئی سالوں سے زیرِ تکمیل ہے اور پاکستان اور ہندوستان دونوں ممالک کے فنکاروں کے درمیان مشترکہ کوششوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس سیریز کو پاکستانی مصنفہ ردا بلال نے لکھا ہے اور اسے معروف پاکستانی فلم اور ٹی وی ڈائریکٹر مہرین جبار نے ڈائریکٹ کیا ہے جبکہ بھارتی پروڈکشن ہاؤسز اپلاس انٹرٹینمنٹ اور زندگی نے اس منصوبے کو پروڈیوس کیا ہے۔

ویب سیریز 23 ستمبر کو چار روزہ بین الاقوامی فلمی میلے کی مارکی ویب سیریز کے طور پر نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔ ویب سیریز کا مرکزی خیال 1996 میں اسی نام کی ایک ٹیلی فلم پر مبنی ہے جس کی ہدایت کاری جبار نے کی تھی اور اس میں معروف پاکستانی اداکاروں مرینہ خان، ثانیہ سعید اور ہما نواب نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔

مصنفہ ردا بلال نے عرب نیوز کو بتایا کہ "فرار جنوبی ایشیا کا ایک ایسا رخ دکھاتی ہے جس پر عموماً بات نہیں کی جاتی۔ ہم خواتین کے بہت فرسودہ طبقے کو دیکھتے ہیں بالخصوص مین اسٹریم ٹیلی ویژن پر۔"

"یہ [سیریز] جدید زندگی کے بارے میں ہے بالخصوص کراچی کی زندگی، [اور] جدید اور کارکن خواتین کے طور پر ہماری جدوجہد کے بارے میں ہے۔ اس دوہری زندگی کے بارے میں جو ہم کبھی کبھی جیتے ہیں۔

مصنفہ نے اس بات پر زور دیا کہ سیریز ایک مضبوط جذباتی بازگشت کی حامل ہے، یہ کہتے ہوئے کہ ناظرین اس میں اپنائیت محسوس کریں گے۔ بلال نے نشاندہی کی کہ 1996 کی ٹیلی فلم جس سے متأثر ہوکر یہ ویب سیریز لکھی گئی، وہ اپنے دور کے لیے قابلِ ذکر طور پر "جدید" تھی۔

بلال نے واضح کیا۔ "ہم نے وہ مرکزی خیال لیا اور اسے ایک سیریز میں بدل دیا۔ ہم اسے سیکوئل قطعاً نہیں کہہ سکتے کیونکہ کہانی مختلف ہے، تاہم اُسی (ٹیلی فلم) کی طرح یہ تین خواتین کے بارے میں ہے جو دوستی اور رازوں کے بندھن میں بندھی ہیں اور ان کی اپنی خواہشات ہیں۔

ویب سیریز میں پاکستان کے نامور اداکار ثروت گیلانی، ماہا حسن، اور مریم سلیم کو زاہد احمد، سلیم معراج، نجف بلگرامی، اور سلمیٰ حسن کے ساتھ اہم کرداروں میں دکھایا گیا ہے۔ گیلانی نے ایک بیوہ سیلون مالکہ کا کردار ادا کیا ہے، حسن نے ایک خواہشمند کھلاڑی کی جبکہ سلیم نے ایک خواہشمند اداکار کی عکاسی کی ہے جو جسمانی امیج کے مسائل سے نبرد آزما ہے۔

پیر کو اپلاس انٹرٹینمنٹ نے سیریز کے چار روزہ میلے میں جگہ حاصل کرنے کی خبر کا اعلان کیا۔

ہدایت کارہ مہرین جبار نے ایک پریس بیان میں کہا، "شکاگو نہ صرف جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن کا ایک نموپذیر علاقہ ہے بلکہ یہاں ایک میلہ بھی ہوتا ہے جس نے تسلسل سے متنوع اصناف اور طرز پیش کی ہیں۔ آج کل جبکہ تقسیم اور جنگ جوئی کا دور دورہ ہے تو یہ دیکھنا بہت خوشی کی بات ہے کہ دنیا کی دو سب سے بڑی جنوبی ایشیائی اقوام نے اشتراک کیا ہے اور داستان گوئی کے فن کی خوشی منانے کے لیے متحد ہوئی ہیں۔"

ثروت گیلانی نے ایک بیان میں کہا، "یہ جان کر میرا دل خوشی سے پھولے نہیں سما رہا کہ فرار کا شکاگو فلمی میلے 23 میں پریمیئر ہو رہا ہے۔"

اداکارہ نے کہا، "جاندار کہانی، زنانہ دوستی کی نازک منقش بنت کاری اور رکاوٹوں کو عبور کرنا، اب یہ تمام دنیا کے ناظرین کو گرفت میں لینے اور ان کی عکاسی کرنے کے لیے تیار ہے۔"

فرار سے قبل زندگی (2014 میں شروع ہونے والا ایک پرچم بردار بھارتی چینل) نے اوریجنل پاکستانی شوز چڑیلز، قاتل حسیناؤں کے نام اور دھوپ کی دیوار پیش کیے جنہوں نے سرحدوں اور زبانوں سے ماورا تھے۔ اس پلیٹ فارم نے بھارتی ناظرین کو معروف پاکستانی ڈراموں سے روشناس کروایا جن میں جاندار بیانیہ پیش کیا گیا مثلاً ہمسفر، زندگی گلزار ہے اور عون زارا۔

زی انٹرٹینمنٹ انٹرپرائزز لیمیٹڈ کے چیف کری ایٹو آفیسر (خصوصی پروجیکٹس) شیلجا کجریوال نے کہا کہ ان کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی اور کوئی بات نہیں کہ برِصغیر کے تیار کردہ مواد کو عالمی سٹیج تک پہنچتے ہوئے دیکھیں۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا، "جنوبی ایشیائی مواد کے لیے استعداد لاثانی ہے اور ہم اس سفر میں اتنے حیرت انگیز شراکت داروں اور اتنی شاندار ٹیم کا ساتھ ملنے پر بہت پرجوش ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں