جنوری کے وسط یا آخر پر کسی دن الیکشن ہو سکتے ہیں: انوار الحق کاکڑ

نگران سیٹ اپ انتخابی عمل میں معاونت، امن وامان اور انتخابات کے انعقاد سے متعلق مالی معاملات کی دیکھ بھال کے لیے تیار ہے: نگراں وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکٹر نے کہا ’’کہ اگر تمام معاملات دیے گئے پلان کے مطابق چلتے ہیں، تو میرے اپنے اندازے کے مطابق اگلے سال جنوری کے وسط یا اختتام پر کوئی بھی دن الیکشن کے لیے متعین کیا جا سکتا ہے۔‘‘

نجی ٹی وی چینل سما سے انٹرویو میں نگراں وزیر اعظم نے کہا اگرچہ صدر پاکستان نے قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے ایک تاریخ تجویز کر دی ہے مگر ملک میں انتخابات کے انعقاد کی تاریخ دینے کا بنیادی اختیار الیکشن کمیشن کا ہے۔

نگراں وزیر اعظم نے کہا کہ حلقہ بندیاں آئین کا حصہ ہیں اور الیکشن کمیشن انتخابات کے تاریخ کے معاملے پر اپنی ضروری مشاورت اور کارروائی کے بعد جلد آگاہ کر دے گا کہ صاف وشفاف الیکشن کے لیے کون سا وقت مناسب رہے گا۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ نگران سیٹ اپ انتخابی عمل میں معاونت، امن و امان اور انتخابات کے انعقاد سے متعلق مالی معاملات کی دیکھ بھال کے لیے تیار ہے۔

’’وفاقی اور صوبائی سطح پر ایسے افسران اور سیاسی شخصیات کی نشاندہی کی گئی ہے جو سمگلنگ اور غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔متعلقہ حکام ان کے خلاف شواہد بھی حاصل کر رہے ہیں جنہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے گا، جس سے انہیں سزا سنائی جائے گی۔‘‘ انہوں نے یقین دلایا کہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

معاشی معاملات میں فوج کے کردار سے متعلق سما ٹی وی کے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں فوج کی ایک ادارہ جاتی سٹرینتھ اور اسے جب بھی کسی بھی معاملے میں استعمال کیا تو اس کے بہتر نتائج نکلے، مگر یہ مسائل کا طویل المدتی حل نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ درحقیقت ہمارے سویلین اداروں کو اس ضمن میں کام کرنا تھا مگر انھیں ایک بُری صورتحال کا سامنا ہے، وہ اپنے تیئں کام نہیں کر پا رہے، تو کیا یہ حل ہے کہ ملٹری کی صورت میں ملک میں جو مضبوط ادارے ہیں کیا انھیں بھی اس کام میں لگا کر کمزور کر دیا جائے؟ حل یہ نہیں ہے، حل یہ ہے کہ سویلین اداروں کو مضبوط کیا جائے اور جب تک یہ کام نہیں ہوتا تب تک ملڑی یا مضبوط اداروں سے یہ اضافی کام لیا جائے۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے معاملے میں متعدد بیوروکریٹس اور سیاسی شخصیات ملوث ہیں۔ ماضی میں سیاسی شخصیات نے سرحدی علاقوں میں تجارت کی اجازت دینے کا معاملہ اٹھایا تھا۔ان علاقوں کے ڈپٹی کمشنرز تیل لے جانے والی ہر گاڑی کی نقل و حرکت کے لیے 200,000 سے 250,000 روپے کے ٹوکن جاری کرتے تھے۔ ایسی 20,000 سے زائد گاڑیاں غیر قانونی تجارت میں ملوث ہیں، جس سے غیر قانونی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔

ڈالر کی غیر قانونی تجارت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سخت اقدامات کے ذریعے اس تجارت کو عملی طور پر اور موجودہ قوانین کے نفاذ کے ذریعے روکا۔ہم نے اس طرح کی غیر قانونی سرگرمی کا نام تبدیل کر کے اسے ‘غیر قانونی تجارت’ قرار دیا ہے۔ کم از کم، ہم نے اس سلسلے میں ایک سنگ میل حاصل کیا ہے، انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی ڈالر کو مختلف کرنسیوں میں تبدیل کرکے پورے خطے میں پھیلا دیا گیا، جس سے ایک شیطانی چکر شروع ہوا جو گزشتہ ڈیڑھ سال سے کام کررہا تھا، جسے اب عملی کریک ڈاؤن قوانین اور بارڈر مینجمنٹ کے ذریعے توڑا جارہا ہے۔

وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستانی روپیہ مزید مستحکم ہوگا۔ملک میں انتخابات کے انعقاد کے بارے میں انہوں نے رائے دی کہ انتخابات جنوری کے وسط یا جنوری کے آخر تک ہو سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے فیصلہ کرنا الیکشن کمیشن پر منحصر ہے۔انہوں نے کہا کہ نگران سیٹ اپ انتخابی عمل میں معاونت، امن و امان اور انتخابات کے انعقاد سے متعلق مالی معاملات کی دیکھ بھال کے لیے تیار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حلقہ بندی ایک آئینی عمل ہے ،صدر نے اس سلسلے میں ای سی پی کو مشورہ بھی دیا تھا، اور کمیشن اس پر غور کرے گا۔

وزیر اعظم نے ایک سوال کے بارے میں کہا کہ افراط زر کا تعلق اشیا کی طلب،رسد اور ضروری خدمات کی دستیابی سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے ذریعے مصنوعی مہنگائی پیدا کی گئی، اسمگلنگ کے خلاف جاری آپریشنز کے ٹھوس اور مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں، انہوں نےچینی کی قیمت میں کمی کا حوالہ دیا۔معاشی بحالی کے حوالے سے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے موجودہ آرمی چیف کو قومی معیشت میں کردار ادا کرنے پر سراہا۔انہوں نے ان سول اداروں کی استعداد کار میں اضافے پر زور دیا جنہیں بگڑتی ہوئی صورتحال کا سامنا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آنے والی حکومت کو خدمات کی تیاری اور اضافہ پر توجہ دینی چاہیے اور مالی اصلاحات کے پروگرام کے بغیر سیاسی جماعتوں کا منشور نگران حکومت کی مختصر مدت کے دوران ہونے والی کامیابیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو آئینی اور قانونی شقوں کی دھجیاں اڑائے بغیر قانونی راستے سے سیاسی اقتدار حاصل کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔9 مئی کے واقعات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ غصے میں آکر کوئی اپنے ہی گھر کو کیسے آگ لگا سکتا ہے۔ ایسی حرکتوں اور طرز عمل میں کوئی منطق نہیں تھی، اوریہ ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر میں پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف) کا حصہ ہوتا تو میں ایسی حرکتوں کی حقیقی مذمت کرتا اور پارٹی کو توڑ پھوڑ سے دور کرتا۔پی ٹی آئی سربراہ کے ٹرائل سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ایسے معاملات کا فیصلہ عدالتوں پر چھوڑ دینا چاہیے۔شاہ محمود قریشی کی گرفتاری کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر منحصر ہے کہ آیا قانون کسی کو ہتھکڑی لگانے کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان واپسی سے متعلق ایک سوال کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فیصلہ کریں گے کہ آیا انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے یا بصورت دیگر قوانین کے مطابق عمل کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ صرف اس صورت میں مداخلت کریں گے جب قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔ آئندہ چیف جسٹس آف پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ انہیں اپنے آبائی صوبے بلوچستان کی ایک روشن خیال شخصیت سمجھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ عدالتی اصلاحات کا آغاز کریں گے۔

وزیر اعظم نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی افواج نے افغان نیشنل آرمی کو تربیت دی اور افغانستان میں کھربوں ڈالر خرچ کیے لیکن ان کے انخلاء کے بعد افغان نیشنل فورس تیزی سے غائب ہو گئی اور انہیں دیا گیا اسلحہ بھی غائب ہو گیا۔ اب، وہی دنیا بھر میں بلیک مارکیٹوں میں فروخت ہو ہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی، داعش اور بی ایل اے جیسی دہشت گرد تنظیموں نے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ایسے ہتھیار استعمال کیے ہیں۔افغان باشندوں کی ایک بڑی تعداد جو بغیر دستاویزات یا جعلی دستاویزات کے پاکستان میں مقیم ہیں انہیں فوری طور پر واپس بھیج دیا جائے گا۔وزیراعظم نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ سب کا شفاف احتساب ہونا چاہیے لیکن اسے سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرنا ختم ہونا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں