پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے لیے اوگرا کا ورکنگ پیپر تیار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عبوری حکومت 16 ستمبر 2023 سے پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو قیمتوں میں 10 روپے فی لیٹر تک نمایاں اضافے کا اعلان کر سکتی ہے۔ اس ضمن میں اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا ورکنگ پیپر تیار کرلیا۔

دستاویزات کے مطابق 16 ستمبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 روپے تک اضافے کی تجویز دی گئی ہے، پیٹرول 20 روپے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 14روپے فی لیٹرمہنگا کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

ورکنگ پیپرز کے مطابق کے مطابق اگلے پندرہ دن میں پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 9 روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی قیمت میں 8 روپے کا زبردست اضافہ متوقع ہے۔

پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت228.59 سے بڑھ کر242.10روپے ہونے کا امکان ہے جبکہ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت میں بھی 13روپے فی لیٹر اضافہ تجویز دی گئی ہے۔

اضافے کی صورت میں پیٹرول کی نئی قیمت305.36 سے بڑھ کر321.35 روپے ہو جائے گی، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت311.84 سے بڑھ کر 325.50روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز سامنے آگئی ہے۔

یہ حساب موجودہ حکومت کے پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں پر مبنی ہے۔ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط میں سے ایک کو پورا کرنے کے لیے پیٹرول پر 60 روپے فی لیٹر اور ایچ ایس ڈی پر 50 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے۔

حکومت پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کو پیٹرول اور ایچ ایس ڈی پر 3 روپے فی لیٹر ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دے سکتی ہے۔

معاہدے کے تحت، پاکستان نے آئی ایم ایف سے وعدہ کیا ہے کہ وہ 55 روپے فی لیٹر کی اوسط شرح تک پہنچنے کے لیے اضافے کے راستے کے بعد زیادہ سے زیادہ پی ایل 60 روپے فی لیٹر تک بڑھا دے گا۔

ستمبر 2023 کے دوسرے نصف میں پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا ایک اور دور متوقع ہے کیونکہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ فیوچر تقریباً 92.14 ڈالر فی بیرل پر منڈلا رہا ہے۔

سعودی عرب اور روس نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ سال کے آخر تک مشترکہ 1.3 ملین بیرل یومیہ کی رضاکارانہ سپلائی کمی میں اضافہ کریں گے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں