چترال اور دیر میں 12 ہزار راشن بیگز کی تقسیم مکمل کرلی: سعودی امدادی تنظیم

سیلاب سے متاثر علاقوں میں تقسیم ایک بیگ میں پورے ماہ کا راشن موجود ہے: کنگ سلمان ریلیف سنٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (KSrelief) نے پاکستان کے اضلاع چترال اور دیر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خوراک کے 12 ہزار پیکجز کی تقسیم مکمل کر لی ہے۔

’’ کے ایس ریلیف‘‘دنیا بھر میں سب سے بڑے بجٹ کے ساتھ 88 ملکوں میں انسانی ہمدردی کے منصوبے چلا رہی ہے۔ پاکستان تنظیم کی امداد اور انسانی بنیادوں پر کارروائیوں سے مستفید ہونے والا پانچواں بڑا ملک ہے۔ ’’ کے ایس ریلیف‘‘ کے اعداد و شمار کے مطابق ایجنسی نے پاکستان میں تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، پانی، صفائی، حفظان صحت، ہنگامی کیمپوں اور کمیونٹی سپورٹ میں 185 منصوبے مکمل کیے ہیں۔ ان منصوبوں پر گزشتہ 17 سالوں میں مجموعی طور پر لگ بھگ 173 ملین ڈالر لاگت آئی ہے۔

جولائی 2023 میں دیر اور چترال کے اضلاع میں پگھلتے ہوئے گلیشیئرز اور شدید بارشوں سے طوفانی سیلاب آیا تھا۔ سیلاب سے کئی مکانات تباہ ہوئے اور سیکڑوں افراد علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے تھے۔

سعودی امدادی ایجنسی نے بتایا کہ یہ فوڈ پیکجز پاکستان میں 2023-2024 کے لیے فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہیں۔

اس دوسرے مرحلے کے دوران مظفر گڑھ اور بہاولنگر اضلاع میں سیلاب متاثرین میں 4,400 فوڈ پیکجز، سجاول اور دادو اضلاع میں 5,000 فوڈ پیکجز اور خاران، صحبت پور میں 11,000 فوڈ پیکجز بھی تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد پورے پاکستان میں 32 ہزار 400 فوڈ پیکجز تقسیم کرنا ہے۔

کے ایس ریلیف کے مطابق ہر پیکج کا وزن 95 کلوگرام ہے۔ اس میں 80 کلوگرام آٹا، 5 لیٹر کوکنگ آئل، 5 کلو چینی، 5 کلو گرام چنے ہیں۔ پیکج میں ایک خاندان کے لیے پورے ماہ کا راشن فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں