سٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کے لیے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا

شرح سود کے نہ بڑھنے اور کرنٹ اکائونٹ خسارے میں کمی سے سٹاک مارکیٹ میں تیزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ہے، جس میں مرکزی بینک نے اگلے دو ماہ کے لیے نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مئی میں مہنگائی 38 فیصد کی رفتار سے بڑھ رہی تھی، اگست 2023 میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 27.4 فیصد ہوئی۔

اس سے قبل 31 جولائی کو سٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا تھا، جس کے مطابق ملک میں شرح سود کو آئندہ 2 ماہ کے لیے 22 فی صد برقرار رکھا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک نے کہا کہ مہنگائی مئی کی بلند ترین سطح سے نیچے آئی ہے، مہنگائی کم ہوتی رہے گی، زرمبادلہ، اجناس منڈیوں میں سٹے بازوں کے خلاف کاروائی سے مہنگائی مزید ہوگی۔

عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل پر آ چکی ہیں، توانائی کی سرکاری قیمتوں میں رد وبدل کے ذریعے صارفین کو منتقل کی جا رہی ہیں، تخمینے کے مطابق مہنگائی نیچے آ رہی ہے، حالیہ انتظامی اقدامات کی وجہ سے رسد کی رکاوٹوں میں کمی آرہی ہے۔

انتظامیہ کی حرکت کے بعد ڈالر ایکسچینج مارکیٹ میں بہتری نظر آئی۔ اکتوبر میں مہنگائی ہو گی مگر نومبر سے مہنگائی کی شرح میں کمی شروع ہو جائے گی۔

مانیٹری پالیسی میں مہنگائی کی رفتار کم رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے جبکہ کہا گیا ہے کہ انتظامی اقدامات اور زرعی پیداوار بڑھنے سے رسد کے مسائل حل ہوں گے۔

مانیٹری پالیسی میں کہا گیا ہے کہ کرنسی اور اجناس کی مارکیٹ میں سٹے بازوں کے خلاف کارروائی کی گئی جس سے مستقبل میں مہنگائی کم ہوگی۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ نجی شعبے میں قرضوں کی مانگ میں کمی آئی ہے۔

بیان کے مطابق: ’ستمبر میں مہنگائی بڑھنے کا امکان ہے البتہ ستمبر کے بعد مہنگائی میں کمی کی توقع ہے۔‘

سٹیٹ بینک کے مطابق دو ماہ میں آمدن میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ٹیکس ریٹ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

مانیٹری پالیسی میں تجویز کیا گیا ہے کہ نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے۔

مانیٹری پالیسی میں کہا گیا ہے کہ جولائی 2023 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 80 کروڑ ڈالر سے زائد تھا لیکن گذشتہ چار مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بہتر ہونا شروع ہوا ہے۔

’پاکستان نے اپنی درآمدات پر سخت پالیسی نرم کرنا شروع کی ہے جس کی وجہ سے درآمدات کا حجم بڑھ رہا ہے۔

سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق پاکستان کو اپنا امپورٹ بل اب بھی قابو رکھنے کی ضرورت ہے۔

سٹیٹ بینک کو رواں سیزن میں کپاس کی اچھی فصل حاصل ہونے کی توقع ہے اور اس کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے چاول کی بہتر پیداوار اور قیمت کے بہتر تعین کی توقع بھی ظاہر کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں