جزیلہ اسلم عدالتِ عظمیٰ پاکستان کی پہلی خاتون رجسٹرار مقرر

قانون کے پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق چیف جسٹس پاکستان کے سیکریٹری اورعبدالصادق سٹاف آفیسر ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جزیلہ اسلم کو سپریم کورٹ کی پہلی خاتون رجسٹرار مقرر کیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر عارف علوی سے پاکستان کے 29 ویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لینے کے فوری بعد یہ اعلان کیا۔عدالتِ عالیہ لاہور کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق جزیلہ اسلم کا تین سال کی مدت کے لیے اس عہدے پر تقرر کیا گیا ہے۔

رجسٹرار کی حیثیت سے تقرر سے قبل وہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں ڈسٹرکٹ اور سیشن جج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی تھیں اور اسی عہدے پر پاکستان کے ضلع قصور اور سیال کوٹ میں بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی سب سے سینیر خاتون ڈسٹرکٹ اور سیشن جج بھی ہیں۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون کو سپریم کورٹ کا رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔ وہ تین بچّوں کی ماں ہیں۔اس حیثیت میں ان کے لیے یہ ایک قابل ستائش کامیابی ہے اوروہ خواتین جوڈیشل افسروں کے لیے بھی مشعل راہ ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جزیلہ اسلم کا تقرر پاکستان کے آئین کے مطابق ہے، جس میں انتظامیہ کو عدلیہ سے الگ کرنے پر زوردیا گیا ہے۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ اسٹیبلشمنٹ سروس رولز 2015 میں طے شدہ کم سے کم قابلیت اور تجربے سے کافی زیادہ کی حامل ہیں۔

جزیلہ اسلم نے کنیئرڈ کالج لاہور سے بیچلر آف آرٹس میں فرسٹ ڈویژن میںڈگری حاصل کی اور پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی (بیچلر آف لا) کی ڈگری حاصل کی۔ انھوں نے پنجاب میں عدلیہ میں تقرر کے لیے مسابقتی امتحان میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی اور مئی 1994 میں سول جج / جوڈیشل مجسٹریٹ کی حیثیت سے پنجاب جوڈیشل سروس میں شمولیت اختیار کی تھی۔

سپریم کورٹ کے مطابق جج جزیلہ اسلم فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ڈپٹی سولیسٹر اور انسٹرکٹر کی حیثیت سے بھی کام کر چکی ہیں اور پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں ڈائریکٹر اکیڈمک کے عہدے پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

سپریم کورٹ کے پریس ریلیز کے مطابق جزیلہ اسلم نے سول ججوں کے تحریری فیصلوں سے متعلق 2019ء میں رہ نما خطوط لکھے اور خواتین کے جائیداد میں حقوق (2020) پر ایک رپورٹ تیار کی تھی۔ وہ ماحولیات سے متعلق قوانین، ثالثی اور عدالتی اصلاحات پرکئی ایک بین الاقوامی کانفرنسوں میں شریک ہو چکی ہیں۔

نئے سیکریٹری اور اسٹاف آفیسر کا تقرر

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے قانون کے معروف پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد کا سیکریٹری برائے چیف جسٹس پاکستان اور عبدالصادق کا سٹاف آفیسر کی حیثیت سے تقررکیا ہے۔

سپریم کورٹ کے پریس ریلیز کے مطابق ڈاکٹر مشتاق احمد صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مردان سے تعلق رکھتے ہیں۔انھوں ایل ایل بی (آنرز)، ایل ایل ایم، ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔ وہ نومبر 2016 سے جولائی 2018 تک بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ قانون کے سربراہ رہے تھے۔جولائی 2018 سے دسمبر 2020 تک اسی یونیورسٹی کی شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پرخدمات سرانجام دی تھیں۔

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد نے گیارہ مختلف موضوعات پر کتب تحریر کی ہیں۔اس کے علاوہ فوجداری قانون، بین الاقوامی قانون انسانیت، انسانی حقوق کے قانون، اسلامی قانون، فلسفہ قانون، علوم القرآن اور تقابل ادیان کے موضوعات پر 50 سے زیادہ تحقیقی مقالے بھی لکھے ہیں۔

وہ متعدد مقدمات میں عدالتی معاون کی حیثیت سے عدالتِ عظمیٰ پاکستان اور قانونی مشیر کی حیثیت سے وفاقی شرعی عدالت پیش ہوچکے ہیں۔ موجودہ تقرر سے قبل ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفا تعمیر ملت یونیورسٹی میں شعبہ شریعہ و قانون کے سربراہ اور پروفیسر کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔اس جامعہ میں انھوں نے شعبہ قانون قائم کرنے میں مدد دی۔

اس جامعہ نے ڈاکٹر محمد مشتاق احمد کو موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے عہدہ کی مدت تک سپریم کورٹ میں ملازمت کی اجازت دی ہے۔

پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا ہے کہ عبدالصادق کا اسٹاف آفیسر برائے چیف جسٹس آف پاکستان کی حیثیت سے تقرر کیا گیا ہے۔ان کا تعلق صوبہ بلوچستان سے ہے۔ ان کی تعلیم بی اے ہے اور وہ کئی زبانیں روانی اور مہارت سے بولتے ہیں۔ان میں براہوی، پشتو، اردو، انگریزی شامل ہیں جبکہ بلوچی، دری، سرائیکی اور پنجابی کو سمجھ سکتے ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے سٹاف آفیسر مقرر ہونے سے قبل وہ بلوچستان ہائی کورٹ میں بہ طور سکیورٹی آفیسر (بی پی ایس 18) فرائض انجام دے رہے تھے۔انھیں موجودہ چیف جسٹس کے عہدہ تک ڈپیوٹیشن پر اسلام آباد میں عدالتِ عظمیٰ میں بھیجا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں