پٹرول قیمتوں میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی کا گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان میں رواں ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو بار ریکارڈ اضافہ کیا گیا، جس کے خلاف جماعت اسلامی نے احتجاجی تحریک چلانے اور چاروں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنوں کا اعلان کیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اضافے کو مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے کہنے پرپٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کر کے عوام کا جینا مزید مشکل بنا دیا، جماعت اسلامی بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی تحریک چلا رہی ہے۔

انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا: ’اب خاموش رہنا موت ہے ۔۔۔ جماعت اسلامی بجلی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافے کے خلاف احتجاجی تحریک چلا رہی ہے، چاروں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی عوامی حمایت کے ذریعے حکومت کو یہ اضافہ واپس لینے پر مجبور کرے گی۔

اُدھر ایم کیو ایم پاکستان، پیپلزپارٹی نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو عوام پر ظلم قرار دے دیا جبکہ پی ٹی آئی نے اضافے کو بھتہ خوری قرار دیا اور اس سلسلے کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر میں مہنگائی کا سونامی آ گیا اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سمیت ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی ٹرانسپورٹرز نے اضافے کا اعلان کردیا۔

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے تین ارب ڈالر کے معاہدے کے بعد حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ کر رہی ہے۔

ابھی بجلی کے زائد بلوں کا معاملہ اور اس پر ہونے والے احتجاج کا قصہ تھما نہیں تھا کہ ایک ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو مرتبہ اور وہ بھی ریکارڈ اضافے نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے۔

عوام کی نظریں نگران حکومت پر ہیں کہ شاید وہ کسی صورت ریلیف دے سکے، لیکن نگران وزیراعظم نے گذشتہ روز میڈیا سے گفتگو میں بظاہر اس معاملے پر ہاتھ کھڑے کر لیے۔

جمعے کو اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس کے بعد نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اس کا تعلق بین الاقوامی مارکیٹ سے جڑا ہے۔

نگران وزیراعظم نے کہا تھا: ’بہت ساری چیزیں ہماری حکومت کے کنٹرول میں ہیں اور کچھ چیزیں بین الاقوامی مارکیٹ کی قیمتوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ ہم ان چیزوں پر فوکس کر رہے ہیں، جہاں گورننس کے مسئلے ہیں اور جنہیں تبدیل کرکے عوام کو ریلیف دیا جاسکے۔ بین الاقوامی قیمتوں پر ہمارا کنٹرول نہیں ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں