دو جرنیلوں کی پشت پناہی کے بل پر چار ججوں نے مجھے عہدے سے ہٹایا: نواز شریف

ہم نے اپنا سیاسی سرمایہ داؤ پر لگا کر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا: قائد پاکستان مسلم لیگ (ن)

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے اپنا سیاسی سرمایہ داؤ پر لگا کر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قوم کو معلوم ہونا چایئے کہ اُنہیں وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دینے والے چار ججوں کے پیچھے ’جنرل ریٹائرڈ قمر باجوہ اور جنرل ریٹائرڈ فیض حمید تھے۔ یہ پوری قوم کے مجرم ہیں، انہیں معاف نہیں کرنا چاہیے۔‘

پیر کی رات پنجاب کے پارٹی عہدیداروں کے گرینڈ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ن لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نے کہا کہ بعض نقصانات زندگی میں پورے ہو جاتے ہیں لیکن بعض کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا، پاکستان کی تاریخ میں اتنی تلخیاں نہیں آنی چاہیے تھیں، جتنی لائی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے آج پاکستان کا یہ حشر کر دیا ہے، آج غریب روٹی کو ترس رہا ہے، ملک کو اس حال تک کس نے پہنچایا ہے؟عوام روٹی کھائیں، بجلی کا بل ادا کریں یا دوائی خریدیں؟

نواز شریف نے کہا کہ قوم کو اس حالت تک پہنچانے والے کردار اور چہرے ہمارے سامنے ہیں، ہمارا تو ایک منٹ میں احتساب ہوتا ہے، ملک وقوم کو اس حال کو پہنچانے والوں کا احتساب بھی ہو گا؟

اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہمارے دور میں ملک ایٹمی قوت بنا، ملک کو جوہری قوت بنانے والے شخص کو جلا وطن کیا جاتا ہے، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے اور دہشت گردی کی عدالت سے 27 سال کی سزا سنائی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو شخص ملک کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلاتا ہے، چار جج بیٹھ کر کروڑوں عوام کے مینڈیٹ والے وزیراعظم کو گھر بھیج دیتے ہیں، اس کے پیچھے جنرل باجوہ اور جنرل فیض تھے۔ جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے آلہ کار ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آج غریب روٹی کو ترس رہا ہے، ملک کو اس حال تک کس نے پہنچایا ہے؟ عوام روٹی کے لیے پریشان ہیں، سنہ 2017 میں تو یہ حالات نہیں تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ سنہ 2017 میں جس کا ایک ہزار کا بل آتا تھا، اسے آج 30 ہزار بجلی کا بل آ رہا ہے۔ عوام کہاں سے یہ بجلی کے بل ادا کریں؟ ’قوم کو یہ سب حقائق معلوم ہونے چاہییں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے مجرم کون ہیں، قوم کو انہیں معاف نہیں کرنا چاہیے۔ مٹی پاؤ نہیں چلے گا، یہ مٹی پاؤ والا معاملہ نہیں ہے۔‘

نواز شریف نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ مریم نواز شریف، حمزہ شہباز شریف سمیت پاکستان مسلم لیگ(ن) کے راہنمائوں اور کارکنوں نے بغیر کسی جرم کے جیلیں اور سختیاں بھگتیں۔ احسن اقبال ، رانا ثناءاللہ، حنیف عباسی سمیت ہمارے پارٹی راہنمائوں اور کارکنوں نے کسی جرم کے بغیر ہی ظلم برداشت کیے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھارت چاند پر پہنچ گیا، جی 20 اجلاس کرا رہا ہے، یہ سب تو ہمیں کرانا چاہیے تھا، دسمبر 1990 میں جب میں وزیراعظم بنا تھا تو اس وقت بھارت نے پاکستان میں ہماری شروع کردہ معاشی اصلاحات کی تقلید کی تھی۔

ہمارے معاشی ایجنڈے کی نقل کرکے بھارت آج کہاں پہنچ گیا اور ہم کہاں رہ گئے ہیں؟ واجپائی جب وزیراعظم بنے تو اس وقت بھارت کے پاس ایک ارب ڈالر خزانے میں نہیں تھا لیکن آج ان کے پاس 600 ارب ڈالر کے فارن ریزرو ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ملک ملک مانگ رہے ہیں تو ملک کی کیا عزت رہ گئی ہے؟ آج پاکستان کا وزیراعظم دوسرے ملکوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوتا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ تباہی کی اس حالت پر پہنچانے والے سب سے بڑے مجرم ہیں، 70 سال میں اتنا بڑا جرم کسی نے نہیں کیا ہو گا کہ 25 کروڑ عوام کے ملک کو ڈیفالٹ کے کنارے لا کر کھڑا کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم ملک کو ڈیفالٹ سے نہ بچاتی تو آج ملک میں پٹرول ایک ہزار روپے لیٹر ہوتا، ہم نے اپنا سیاسی سرمایہ داؤ پر لگا کر پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا ہے۔

قائد ن لیگ نے کہا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کی قیمت ہم نے ادا کی ہے، پاکستان کے درد کی خاطر خلوص سے یہ قربانی ہم نے دی ہے، لکھ کر دیتا ہوں، ان شاء اللہ انتخابات میں کامیاب بھی آپ ہی ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں