موٹر وے ریپ کیس کے موضوع پر بنے ٹی وی ڈرامے پر پابندی معطل

ستمبر 2020 میں ہونے والے موٹر وے ریپ کیس کی متاثرہ خاتون نے جیو ٹی وی کے ڈرامہ سیریل ’حادثہ‘ کے نشر ہونے کو اپنے لیے تکلیف کا باعث قرار دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹر (پیمرا) کی جانب سے گذشتہ ماہ ایک ٹیلی ویژن سیریل پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

ڈرامہ سیریل ’حادثہ‘ کے خلاف بڑے پیمانے پر شکایات موصول ہوئی تھیں کہ اس کی کہانی کا موضوع موٹر وے پر بچوں کے سامنے ایک خاتون کے ساتھ کی گئی اجتماعی عصمت دری تھا۔

جنسی تشدد کی اُس شہ سرخی نے پاکستانیوں کو حیران اور مشتعل کر دیا تھا۔ اور انسانی حقوق کے کارکنان اور شہریوں نے یکساں مطالبہ کیا کہ حکومت خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرے اور یہ کہ ایک ایسے ملک میں جہاں ہر سال 3,500 سے زیادہ ریپ ہوتے ہیں، مجرموں کے احتساب کو یقینی بنایا جائے۔

موٹروے ریپ کیس میں دو افراد کو گذشتہ سال سزائے موت سنائی گئی تھی۔

گذشتہ ماہ شہریوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے جیو انٹرٹینمنٹ چینل پر نشر ہونے والے ڈرامے "حادثہ" پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے "انتہائی نامناسب، پریشان کن اور پاکستانی معاشرے کی حقیقی تصویر نہ دکھانے" کی بنا پر ڈرامے پر پابندی عائد کر دی۔

پیر کو شائع ہونے والے ایک فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیمرا کے حکم کو معطل کر دیا اور کہا کہ ڈرامہ نشر کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ پانچویں قسط میں ریپ کے منظر کو "اس کے بعد کی اقساط میں کسی بھی طرح سے دہرایا/ نشر نہ کیا گیا ہو۔"

ڈرامہ سیریل کی پروڈیوسر شازیہ وجاہت نے کہا کہ وہ "شکر گذار ہیں" کہ لوگوں کو اب پورا شو دیکھنے کو ملے گا۔

وجاہت نے کہا، "اسلام آباد کی معزز عدالت نے ہمارے افسانوی کردار تسکین کو اجازت دے دی ہے کہ وہ اپنے لیے اور باقی تمام بچ جانے والوں کے لیے انصاف حاصل کرنے کی متأثر کن کہانی سنائے۔ تسکین کی کہانی اس بارے میں ہے کہ وہ حصولِ انصاف کے لیے پرعزم جدوجہد کر کے شکار بننے کی بجائے زندہ بچ جانے اور لڑنے والی بن گئی۔"

پیمرا کی پابندی سے قبل پاکستانی وکیل محمد احمد پنسوٹا نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ موٹروے ریپ میں زندہ بچ جانے والی خاتون نے ان سے مشورہ کیا تھا کہ ڈرامہ حادثہ کی نشریات کے خلاف کارروائی کے لیے کیا قانونی آپشنز ہو سکتے تھے۔

کراچی میں قائم وار آن ریپ گروپ کے مطابق پاکستان میں جنسی زیادتی یا عصمت دری کے تین فیصد سے بھی کم واقعات کے نتیجے میں مجرمان کو سزائیں ملتی ہیں۔ یہاں خواتین پرتشدد جنسی حملوں کے بعد شاذ و نادر ہی بات کرتی ہیں کیونکہ انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ اس سے انہیں اور ان کے خاندانوں کو پاکستانی معاشرے میں شرمندگی کا سامنا ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں