پاکستانی وزیرمذہبی امورکا دورۂ الریاض، طریقِ مکہ اقدام میں توسیع ایجنڈے میں سرفہرست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے نگران وزیر برائے مذہبی امور انیق احمد بدھ کے روز الریاض پہنچے ہیں جہاں وہ اگلے سال حج سے قبل سعودی حکام کے ساتھ طریقِ مکہ اقدام کی ملک دو اور بڑے شہروں تک توسیع پر تبادلہ خیال کریں گے۔

پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے پہلے ہی آیندہ حج کے لیے 179,210 عازمین کا کوٹا مل چکا ہے اور وزارت نے اپنے روحانی سفر کا ارادہ رکھنے والے افراد کی سہولت کے لیے پیشگی تیاریاں شروع کردی ہیں۔

انیق احمد اسی ہفتے کے آغاز میں مملکت کے ایک ہفتے کے دورے پر گئے تھے۔انھیں منگل کے روز پاکستان حج مشن کی طرف سے انتظامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔انھوں نے عازمینِ حج کو مختلف سہولتیں مہیا کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے۔

وزارت مذہبی امور کے ترجمان محمد عمر بٹ نے بتایا کہ وزیرمذہبی امور انیق احمد سعودی ہم منصب ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ اور رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری محمد بن عبدالکریم العیسیٰ سے الریاض میں الگ الگ ملاقات کریں گے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ وزیرمذہبی امور اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ اگلے سال حج کے لیے اسلام آباد کے علاوہ کراچی اور لاہور تک طریق مکہ اقدام کو توسیع دینے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے 2019ء میں پہلی مرتبہ پاکستان سمیت چارممالک میں طریق مکہ اقدام متعارف کرایا تھا تاکہ عازمینِ حج کو ان کے آبائی ملک ہی میں ہوائی اڈے پر روانگی کے وقت کسٹمز اور امیگریشن کی خدمات مہیا کی جاسکیں اور سعودی عرب میں آمد پر ان کا قیمتی وقت بچایا جا سکے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں سال اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 26 ہزار سے زیادہ پاکستانی عازمین حج اس سہولت سے مستفید ہوئے تھے۔

پاکستانی وزیر کل جدہ پہنچیں گے جہاں وہ حج کے سلسلے میں مختلف سعودی کمپنیوں کے نمائندوں اور جنرل اتھارٹی برائے شہری ہوابازی کے حکام سے ملاقات کریں گے۔وہ سعودی عرب کے ایک ہفتے کے دورے کے بعد 24 ستمبر کو اسلام آباد لوٹیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں