پاکستان کا بینکوں،مالیاتی اداروں میں بھارتی ساختہ آئی ٹی مصنوعات کے استعمال پرانتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کی وفاقی حکومت نے رواں ہفتے ایک سائبر ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں صنعتوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ملک کی ڈیجیٹل سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے بھارتی ساختہ سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مصنوعات کا استعمال کرتے وقت محتاط رہیں۔

بھارت نے آئی ٹی کی مصنوعات اور خدمات کی ترقی میں اہم پیش رفت کی ہے اور وہ عالمی سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ انڈسٹری میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر جانا جاتا ہے۔اس وقت وہ کم لاگت اور ہُنرمند افرادی قوت کے ایک بڑے پول کی وجہ سے آن لائن حل ، ایپلی کیشنز کی دیکھ بھال اور کسٹمر سپورٹ کی تلاش کرنے والی کمپنیوں کے لیے ایک سرفہرست آؤٹ سورسنگ منزل ہے۔

گذشتہ برسوں کے دوران میں کئی بڑی ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھارت میں اپنے نمایاں قدم جمائے ہیں۔انھوں نے اپنے تحقیقی اور ترقیاتی مراکز قائم کیے ہیں اور مقامی آئی ٹی ایکو سسٹم کی ترقی میں مدد کی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں سیاسی تناؤ اور دشمنی کی ایک طویل تاریخ ہے اور اسلام آباد کے حکام نے کبھی ہمسایہ ملک کے ساتھ ڈیجیٹل تعاون کی حوصلہ افزائی کی ہے اور نہ ہی سرکاری سطح پر آئی ٹی مصنوعات اور خدمات کی براہ راست خرید و فروخت میں وہ شریک رہے ہیں۔

وفاقی حکومت کے کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ انھیں معلوم ہوا ہے کہ چند بینکوں سمیت پاکستان کا فن ٹیک سیکٹر آئی ٹی مصنوعات، سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کے حل پیش کرنے والی بھارتی کمپنیوں کے ساتھ مربوط ہورہا ہے۔

اس ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ بھارت کی سکیورٹی مصنوعات اوران کے حل کا استعمال پاکستان کے انفارمیشن انفراسٹرکچر کے لیے مسلسل، پوشیدہ اور ظاہری خطرے میں اضافے کا سبب ہے۔ایسی مصنوعات میں لاگ / ڈیٹا ٹریفک تجزیہ اور ذاتی شناختی معلومات جمع کرنے کے لیے بیک ڈور یا میلاویئر کی موجودگی کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔مزید برآں،انھوں نے ملک کے اہم انفارمیشن انفراسٹرکچر میں ’’براہ راست بھارتی مداخلت‘‘ کو ممکن بنایا ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ تمام وفاقی / صوبائی وزارتوں بہ شمول شعبہ جاتی ریگولیٹرز سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ سیٹ اپ / تنظیموں / لائسنس یافتگان کو بھارتی ساختہ مصنوعات / حلوں کے استعمال میں شامل خطرات کے بارے میں آگاہ کریں۔

تمام صارفین کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی ان مصنوعات کو انسٹال کرنے اور استعمال کرنے سے گریز کریں اور اس کے بجائے مناسب اور سستے متبادل کے لیے تکنیکی کمپنیوں کی تلاش میں پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز کی ایسوسی ایشن سے مشورے کریں۔

یاد رہے کہ قریباً تین سال قبل ایسی میڈیا رپورٹس سامنے آئی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے سائبر حملوں کے ذریعے پاکستان کے سرکاری اہلکاروں اور فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے تب ایک بیان میں کہا تھا کہ اس پیش رفت کی تہ تک پہنچنے کے لیے دشمن ایجنسیوں کے مختلف اہداف کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں