اسلام آباد: سعودی فوج کے سربراہ کی صدر پاکستان سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، دونوں برادر ممالک مختلف شعبوں میں بہترین تعلقات کے حامل ہیں اور مختلف علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر ان کے خیالات مشترک ہیں۔

ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار سعودی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے جمعہ کو یہاں ایوان صدر میں ان سے ملاقات کی۔ پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب نے تجارت، معیشت اور دفاع کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کا خواہاں ہے کیونکہ ملک میں زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خصوصی سرمایہ کاری کی سہولت کونسل تشکیل دی ہے تاکہ فیصلہ سازی کو تیز کرنے اور چار اہم شعبوں میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے ون ونڈو پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا جا سکے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے مختلف شعبوں میں بہترین تعلقات کے حامل ہیں اور مختلف علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر ان کے خیالات مشترک ہیں۔ صدر مملکت نے دونوں ممالک کے باہمی فائدے کے لیے دوطرفہ اقتصادی تعلقات بڑھانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی فوجی قیادت کے اعلیٰ سطحی تبادلوں سے دفاعی تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ صدر مملکت نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات معمول پر آئے اور اس سے خطے میں امن اور خوشحالی بھی آئے گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مالی مدد فراہم کی۔

اس موقع پر سعودی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین شروع سے ہی مختلف شعبوں میں قریبی تعلقات ہیں۔ انہوں نے دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا اور کہا کہ سعودی عرب کا وژن 2030 پڑوسی ممالک کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا میں بھی خوشحالی لائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں