پاکستان سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں سے کارپوریٹ فارمنگ کے لیے چھ ارب ڈالر کا خواہاں

کارپوریٹ فارمنگ میں سرمایہ کاری کے لیے پاکستان متعدد سعودی کمپنیوں سے بات چیت کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

کارپوریٹ فارمنگ میں عرب اور خلیجی ممالک کی جانب سے سرمایہ کاری کی متمنی فونگرو کمپنی کے انتظامی سربراہ [سی ای او] نے کہا ہے ’’کہ کارپوریٹ فارمنگ کے لیے اگلے تین سے پانچ سالوں کی مدت میں پاکستان کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، قطر اور بحرین سے 60 لاکھ ڈالر تک کی سرمایہ کاری درکار ہو گی۔‘‘

’’اس اقدام کا مقصد پہلے سے غیر کاشت شدہ 1.5 ملین ایکڑ اراضی کو قابل کاشت بنانا اور ملک کے طول وعرض میں موجودہ 50 ملین ایکڑ زرعی زمین کو روایتی طریقہ کاشتکاری سے مشینی کاشتکاری کی جانب منتقل کرنا ہے۔‘‘

یہ پیش رفت پاکستان کی جانب سے ایک خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے قیام کے چند مہینوں بعد سامنے آئی ہے۔ زراعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، دفاعی پیداوار اور توانائی کے شعبوں میں غیر ملکی فنڈز کو راغب کرنے کے لیے یہ ایک سول ملٹری ہائبرڈ فورم ہے۔

یاد رہے کہ جنوبی ایشیائی ملک میں ادائیگیوں کے توازن کا بحران ہے اور اسے تجارتی خسارے کو پورا کرنے اور موجودہ مالی سال میں بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی کے لیے اربوں ڈالر کا زرِمبادلہ درکار ہے تو اس اقدام کا مقصد غیرملکی سرمایہ کاری کا حصول ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اگلے پانچ سالوں میں پاکستان میں کان کنی، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں 25 بلین ڈالر تک کی سرمایہ کاری کریں گے۔

ایس آئی ایف سی کے تحت زرعی شعبے میں اقدامات کو فونگرو کمپنی کے زیرِ انتظام کیا جا رہا ہے جو فوجی فاؤنڈیشن سرمایہ کاری گروپ کا حصہ ہے جسے سابق پاکستانی فوجی افسران چلاتے ہیں۔

فونگرو کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر میجر جنرل (ریٹائرڈ) طاہر اسلم نے عرب نیوز کو بتایا، "ہم نے ابتدائی تین سے پانچ سالوں کے لیے [خلیجی ممالک] کی تقریباً پانچ سے چھ بلین ڈالر سرمایہ کاریکا تخمینہ لگایا ہے۔

انہوں نے ہر ملک سے انفرادی سرمایہ کاری کی الگ الگ تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

سی ای او نے کہا کہ کمپنی کاروباری کاشت کاری شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے الضحارہ، صالح اور الخریف جیسی متعدد سعودی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بات چیت میں اب تک ہونے والی پیش رفت کی تفصیل نہیں بتائی۔

اسلم نے کہا کہ ان کی کمپنی کاروباری کاشت کاری کے لیے سعودی اور متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں کے ساتھ سرمایہ کاری کے مختلف ماڈلز پر بھی کام کر رہی ہے جس میں مشترکہ منصوبے شامل ہیں۔

"اگر وہ براہِ راست سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو یہ ایک کارپوریٹ ماڈل ہے۔ اس لیے وہ کمپنی میں مساوی تعداد میں حصہ لیں گے اور انہیں [کمپنی کی] گورننس میں مساوی تعداد میں عہدے حاصل ہوں گے۔ اس لحاظ سے یہ ایک مشترکہ کمپنی بننے جا رہی ہے۔"

میکانائزڈ فارمنگ کے لیے حکمتِ عملی اور اہداف کے بارے میں اسلم نے کہا کہ فونگرو 1.5ملین ایکڑ نئی قابلِ کاشت اراضی کو زیرِ کاشت لانے اور پہلے سے زیرِ کاشت 50 سے زیادہ ملین ایکڑ اراضی کو جدید بنانے کے لیے دو جہتی نقطۂ نظر پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "مشینری اور قدر میں اضافے (ویلیو ایڈیشن) کے لیے انفراسٹرکچر کے قیام کے لیے تقریباً 25 ملین ڈالر فی ہزار ایکڑ اور دیگر کی ضرورت ہو گی۔"

فونگرو اگلے 5-7 سالوں میں 100,000 ایکڑ سے زیادہ رقبے پر کارپوریٹ فارم قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا پہلا فارم خانیوال میں 5,000 ایکڑ سے زائد اراضی پر پہلے ہی قائم ہو چکا ہے۔

اسلم نے کہا، "اگلے سال ہم 10,000 ایکڑ سے زیادہ رقبے پر اپنا دوسرا فارم شروع کریں گے اور امید ہے کہ ہر سال 20 سے 25 ہزار ایکڑ رقبہ تیار کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی۔ بنیادی طور پر ہم پنجاب سے شروع کر رہے ہیں اور پھر ہم زمینوں کی تلاش میں ہیں۔ ہم تمام صوبوں میں جائیں گے جہاں بھی ہمیں مناسب زمینیں ملیں گی۔"

زمین کو تیار کرنے کے لیے سرمایہ کن ذرائع سے آئے گا، اس پر ایک سوال کے جواب میں اہلکار نے کہا: "ہمارے پاس اپنے پروجیکٹ کے لیے روپے کے سرمائے کی دستیابی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ بالآخر یہ فوجی فاؤنڈیشن کو واپس منافع دے گا۔"

"زرمبادلہ کا حصول ایک چھوٹا چیلنج ہے جس کا ہمیں بنیادی طور پر سامنا ہے کیونکہ آبپاشی کے نظام اور ٹریکٹر اور ہارویسٹر جو ہمیں درآمد کرنے ہیں، ان کے لیے زرِمبادلہ کی ضرورت ہے۔"

اسلم نے کہا کہ پاکستان کے کارپوریٹ کاشت کاری ماڈل کا تصور ہے کہ ساٹھ فیصد فصلیں ملک کے غذائی تحفظ میں حصہ ڈالیں گی اور بقیہ 40 فیصد زرِمبادلہ کمانے کے لیے بنیادی طور پر خلیجی ممالک کو برآمد کر دی جائیں گی۔

انہوں نے کہا پاکستان کو خلیجی ملک سے فوجی سیریل کی مصنوعات کا پہلا برآمدی آرڈر موصول ہوا ہے، اگرچہ انہوں نے ملک کا نام طاہر نہیں کیا۔

"یہ ایک ابتدائی حجم ہے [جو] ایک سال میں تقریبا$ 25 ملین ڈالر کی مصنوعات کا ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ جوں جوں ہم مزید ممالک سے آرڈر حاصل کریں گے تو یہ آئندہ سالوں میں بڑھتا رہے گا۔"

پاکستان میں اقتصادی منصوبوں میں فوج کی شمولیت کے بارے میں خدشات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوج اس وقت صرف وہ کام کر رہی ہے جس کی سویلین حکومت نے درخواست کی تھی۔

فونگرو کے سی ای او نے کہا کہ "وہ [غیر ممالک] ایک ایسی تنظیم چاہتے تھے جو ان کی سرمایہ کاری کو تسلسل یا تحفظ فراہم کرے۔ اسی وجہ سے فوج نے اس میں شمولیت اختیار کی اور پھر فوج نے بھی کہا کہ ہمارے پاس اتنی بڑی [سرمایہ کاری] کی صلاحیت موجود ہے۔" فونگرو کے سی ای او نے کہا۔

"ماضی میں بھی فوج نے تعمیرِ ملت اور قومی اہمیت کے منصوبوں میں بڑی خوشی سے کردار ادا کیا ہے۔ فوج اپنا کام کر رہی ہے لیکن کوئی فوجی اس میں شامل نہیں ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں