آیندہ انتخابات میں فوج کی ممکنہ مداخلت؟ انوارالحق کاکڑ نے’مضحکہ خیز‘دعویٰ مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے عبوری وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے اس توقع کا اظہارکیا ہے کہ نئے سال کے اوائل میں پارلیمانی انتخابات ہوں گے، انھوں نے اس امکان کو مسترد کر دیا کہ ملک کی طاقتور فوج اس بات کو یقینی بنانے کے لیے نتائج میں ہیرا پھیری کرسکتی ہے کہ جیل میں بند سابق وزیر اعظم عمران خان کی پارٹی جیت نہ سکے۔

کاکڑ نے امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس ( اے پی) کودیے گئے ایک انٹرویو میں کہاکہ پارلیمانی انتخابات پاک فوج نہیں بلکہ الیکشن کمیشن نے کرانے ہیں اور عمران خان نے خود الیکشن کمیشن کے موجودہ سربراہ کومقرر کیا تھا، تو وہ ان کے خلاف کسی بھی لفظ کا استعمال کیوں کریں گے؟

پاکستان اپریل 2022 سے اپنی تاریخ کے بدترین معاشی اور سیاسی بحران سے دوچار ہے۔تب عمران خان کو پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔انھیں اگست کے اوائل میں بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا اور تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی ، جسے بعد میں اعلیٰ عدالت نے معطل کردیا تھا لیکن وہ اب بھی جیل میں ہیں۔

الیکشن کمیشن نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ انتخابات جنوری کے آخری ہفتے میں ہوں گے، جس کی وجہ سے آئین کے تحت نومبر میں ہونے والی ووٹنگ میں تاخیر ہوئی ہے۔کاکڑ نے کہا کہ جب الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ کا تعین کرے گا تو ان کی حکومت ’’تمام مالی امداد، سکیورٹی اور دیگر متعلقہ ضروریات مہیا کرے گی‘‘۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ ججوں سے عمران خان کی سزا کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کریں گے تاکہ وہ انتخابات میں حصہ لے سکیں؟اس پر نگران وزیراعظم نے کہا کہ وہ عدلیہ کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کریں گے۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ عدلیہ کو کسی بھی سیاسی مقصد کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

کاکڑ نے کہا:’’ہم ذاتی انتقام میں کسی کا تعاقب نہیں کررہے ہیں۔البتہ، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ قانون کا درست استعمال ہو۔ عمران خان ہوں یا کوئی اور سیاست دان، جو بھی اپنے سیاسی طرزعمل کے لحاظ سے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرے تو قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا اور قانون کے مطابق سب سے مساوی سلوک ہونا چاہیے‘‘۔

انھوں نے مئی میں عمران خان کی ابتدائی گرفتاری کے بعد ملک کو ہلا کر رکھ دینے والے تشددآمیز واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منصفانہ انتخابات خان یا ان کی پارٹی کے ان سیکڑوں ارکان کے بغیر بھی ہو سکتے ہیں جو توڑ پھوڑ اور آتش زنی سمیت غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے اس وقت جیلوں میں بند ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی پارٹی میں ہزاروں افراد غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھے، وہ سیاسی عمل کو آگے بڑھائیں گے اور انتخابات میں حصہ لیں گے۔

انھوں نے فوج کے ساتھ اپنی حکومت کے ورکنگ تعلقات کو ’’بہت ہموار‘‘ اور ’’بہت کھلا اور واضح‘‘ قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ ہمیں سول ملٹری تعلقات کے چیلنجزکا سامنا ہے، میں اس سے انکار نہیں کر رہا لیکن عدم توازن کی بہت مختلف وجوہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ حکومت کی قیادت کرنے کے بعد ان کا ماننا ہے کہ پاکستان میں سول ادارے گذشتہ کئی دہائیوں سے کارکردگی کے لحاظ سے خراب ہوئے ہیں جبکہ فوج نظم و ضبط اور تنظیمی صلاحیتوں کی حامل ہے اورگذشتہ چار دہائیوں میں اس میں بہتری آئی ہے۔

کاکڑ نے کہا کہ اس کا حل یہ ہے کہ موجودہ فوجی تنظیم کو کمزور کرنے کے بجائے سویلین اداروں کی کارکردگی کو بتدریج بہتر بنایا جائے کیونکہ اس کے بغیر ہمارا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

انھوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ تنازع کشمیر کے بارے میں بھی گفتگو کی ہے۔واضح رہے کہ 2019ء میں بھارت کی ہندو قوم پرست حکومت نے اس مسلم اکثریتی علاقے کی نیم خودمختاری ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے ریاست کے درجہ، اس کے علاحدہ آئین اور زمین اور ملازمتوں پر وراثت میں ملنے والے تحفظ کو ختم کر دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ بھارت نے ریاست جموں وکشمیر میں نوّے ہزار سے زیادہ فوج تعینات کررکھی ہے۔ کشیمری عوام "ایک بڑی جیل" میں رہ رہے ہیں۔انھیں کوئی سیاسی حق حاصل نہیں ہے۔انھیں اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق حق خودارادیت بھی نہیں دیا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ جب دنیا کی توجہ یوکرین پر مرکوز ہے تو کشمیر ایک ایسا بحران ہے جو بنیادی طور پراپنے غلط جغرافیے کی وجہ سے ابھی تک طے نہیں ہوسکا ہے اور دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول نہیں کراسکا۔

انھوں نے سوال کیا کہ اگر کشمیر یورپ یا شمالی امریکا میں ہوتا تو کیا ابھی تک یہ حل طلب ہوتا اور اس کے حل کے لیے 'بے حسی کا رویہ' ایسے ہی اختیار کیا جاتا۔

کاکڑ نے کہا:’’اس تنازع میں سب سے اہم فریق کشمیری عوام ہیں۔یہ نہ تو بھارت ہے اور نہ ہی پاکستان بلکہ کشمیری عوام کو اپنی شناخت اور اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’بھارت دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوے دار ہے لیکن وہ کشمیریوں کے استصواب رائے کے بنیادی اور جمہوری اصول سے انکار کر رہا ہے۔ ... تو پھر وہ کس طرح کی جمہوریت پر فخر کر رہا ہے؟‘‘

امریکا اور نیٹو کے انخلا کے بعد 2021 سے طالبان کے زیر اقتدار ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستانی طالبان یا ٹی ٹی پی، داعش اور دیگر انتہا پسند گروہوں کی موجودگی کی وجہ سے افغانستان کی طرف سے "کچھ سنگین سکیورٹی چیلنجز ہیں"،۔ یہ جنگجو گروپ بعض اوقات ایک دوسرے کے مقابلے میں اثرورسوخ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت نے طالبان سے ٹی ٹی پی کی قیادت اور جنگجوؤں کی حوالگی کی درخواست کی ہے تو انھوں نے کہا کہ وہ کابل میں حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، لیکن اس بارے میں ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے جو وہ شیئر کر سکیں۔

بین الاقوامی برادری نے افغانستان میں طالبان کی زیر قیادت حکومت کو تسلیم کرنے سے انکارکیا ہے۔انوار الحق کاکڑ نے بتایا کہ علاقائی رہ نماؤں کے اجلاس میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا کہ طالبان کو تسلیم کرنے کے لیے کون سی ترغیبات اور طرزِعمل میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہوگی، لیکن میرے خیال میں ہم اس سنگ میل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

وہ پاکستان کے سب سے کم آبادی والے اور کم ترقی یافتہ صوبہ بلوچستان سے پہلی بار سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔پاکستان کے سبکدوش ہونے والے وزیراعظم شہباز شریف اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجا ریاض احمد نے نگراں وزیر اعظم کے طور پر ان کے نام پر اتفاق کیا تھا۔انھوں نے گذشتہ ماہ سبکدوش ہونے والے وزیراعظم شہبازشریف کی جگہ عبوری حکومت سنبھالی تھی اور انھوں نے سینیٹر کے عہدے سے استعفا دے دیا تھا۔

انھوں نے کہا:’’میرے لیے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے،مجھے لگتا ہے کہ میں کبھی اس کا مستحق نہیں تھا۔یہ صرف ایک خدائی نعمت ہے‘‘۔

پاکستان کے انتخابی قانون کے مطابق وہ عبوری وزیر اعظم ہونے کی وجہ سے عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے لیکن ان کا کہناتھا کہ مستقبل میں وہ معاشرے میں تعمیری سیاسی کردار ادا کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں