اسلامو فوبیا نے انتہا پسندی کو جنم دیا، مقدسات کے تقدس کو یقینی بنایا جائے: وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ اسلامو فوبیا سمیت اس طرح کے خیالات نے انتہا پسندی، نفرت اور مذہبی عدم برداشت کو جنم دیا ہے، باہمی احترام، مذہبی علامات، صحیفوں اور مقدس ہستیوں کے تقدس کو یقینی بنایا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ تہذیبوں کے درمیان تعاون، افہام و تفہیم، تبادلے اور نظریات کی ترکیب پر مبنی ہماری ترقی آج خطرے میں پڑی ہوئی ہے، تہذیبوں کے درمیان تصادم کی حمایت کرنے والے بیانیہ نے انسانی ترقی کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا سمیت اس طرح کے خیالات نے انتہا پسندی، نفرت اور مذہبی عدم برداشت کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک پوشیدہ خطرہ ہے جو ہزاروں سال کی ترقی کو نقصان پہنچاتا ہے، ہمیں اپنے تنوع اور زندگی کے مختلف طریقوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ، باہمی احترام، مذہبی علامات، صحیفوں اور مقدس ہستیوں کے تقدس کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا ایک پرانا رجحان ہے تاہم نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد اس نے وبائی شکل اختیار کر لی ہے اور اس سلسلہ میں اسلام کے مقدس مقامات اور علامتوں پر حملے کئے جا رہے ہیں اور قرآن پاک کو سر عام نذر آتش کرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پچھلے سال جنرل اسمبلی نے او آئی سی کی جانب سے پاکستان کی طرف سے تجویز کردہ ایک قرارداد منظور کی جس میں 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن قرار دیا گیا۔

رواں سال کے اوائل میں انسانی حقوق کونسل نے پاکستان کی طرف سے پیش کی گئی او آئی سی کی ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں ریاستوں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ قرآن پاک کو جلانے اور اسی طرح کی اشتعال انگیزیوں کو غیر قانونی قرار دیں، ہم ڈنمارک کی طرف سے شروع کی گئی قانون سازی اور سویڈن کی طرف سے معاملہ پر غور کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور او آئی سی ممالک اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لئے مزید اقدامات تجویز کریں گے جس میں خصوصی ایلچی کی تقرری، اسلامو فوبیا ڈیٹا سینٹر کی تشکیل، متاثرین کو قانونی مدد اور اسلامو فوبیا کے جرائم کی سزا کے لئے احتسابی عمل شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں