پاکستان کا ترسیلاتِ زر بھیجنے والوں کے لیے نئی مراعات کا اعلان

نئی ڈائمنڈ کیٹیگری میں ترجیحی علاج اور مفت پاسپورٹ جیسی سہولیات بھی شامل ہوں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسٹیٹ بینک پاکستان نے جمعے کے روز سمندر پار پاکستانیوں کے لیے ترسیلات زر پروگرام میں ایک نئی 'ڈائمنڈ' کیٹیگری کا آغاز کیا جس میں زمرہ کے حاملین کو سفارت خانوں اور ہوائی اڈوں پر ترجیحی سلوک اور مفت پاسپورٹ جیسے اضافی فوائد کا وعدہ کیا گیا۔

سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام (ایس ڈی آر پی) پوائنٹس پر مبنی لائلٹی اسکیم ہے جو بیرونِ ملک کام کرنے والے اور بینکنگ چینلز یا ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے پاکستان میں اپنے رشتہ داروں کو رقم بھیجنے والوں کے لیے ہے۔

رقم بھیجنے والے اپنی ہر ترسیلاتِ زر کے ایک مخصوص فیصد کی بنیاد پر انعامی پوائنٹس حاصل کرتے ہیں۔ ایس ڈی آر پی پروگرام میں پہلے سے ہی تین زمرے ہیں: گرین ($10,000 تک سالانہ ترسیلاتِ زر)، گولڈ ($10,001 سے $30,000 تک کی سالانہ ترسیلات) اور پلاٹینم ($30,000 سے زائد کی سالانہ ترسیلات)۔ بیان میں ڈائمنڈ کے زمرے کے لیے رقم کی وضاحت نہیں کی گئی۔

اسٹیٹ بینک پاکستان نے ایک بیان میں کہا، "22 ستمبر 2023 سے مؤثر سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام (ایس ڈی آر پی) میں ایک نیا 'ڈائمنڈ' زمرہ شامل کیا گیا ہے۔"

رقم بھیجنے والے اپنے سمارٹ فونز پر ایس ڈی آر پی ایپ کے ذریعے اپنی ترسیلات اور انعامی پوائنٹس کو ٹریک کر سکتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے سابق وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار کے اس بیان کو یاد کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ڈائمنڈ کیٹیگری میں بہتر انعامی پوائنٹس اور فوائد شامل ہوں گے مثلاً غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ لائسنس، پاکستانی سفارت خانوں/ہوائی اڈوں پر ترجیحی سلوک، اور مفت پاسپورٹ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مفت مصنوعات اور خدمات کے ذریعے رقم بھیجنے والے اور ان کا فائدہ اٹھانے والے انعامی پوائنٹس کا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں مثلاً تارکینِ وطن کی رجسٹریشن فیس کی ادائیگی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو درآمد شدہ موبائل سیٹ اور گاڑیوں کے لیے ڈیوٹی کی ادائیگی، اور پاسپورٹ کی تجدید کی فیس کی ادائیگی۔

سٹیٹ بینک پاکستان نے مزید کہا، "مزید برآں پی آئی اے کی بین الاقوامی ٹکٹوں اور اضافی سامان کے چارجز؛ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن میں لائف انشورنس/تکافل پریمیم کی ادائیگی؛ اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان میں کی گئی خریداریوں پر بھی انعامی پوائنٹس کے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستان اپنی نقدی کی کمی کا شکار معیشت کو رواں رکھنے کے لیے ترسیلاتِ زر پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوبی ایشیائی ملک نے جون میں ختم ہونے والے مالی سال 2023 کے دوران 27 بلین ڈالر کی ترسیلاتِ زر حاصل کیں۔

مالی سال 23 کے دوران پاکستانی کارکنان کی طرف سے بھیجی گئی رقوم میں سب سے زیادہ حصہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں