حکومت پاکستان کا حج دورانیہ کم کرنے پر غور

40 دن یا مختصر حج کا فیصلہ حجاج کرام خود کریں گے: انیق احمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سینیٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں اگلے سال سرکاری حج کا دورانیہ 45 دنوں سے کم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ دورانِ اجلاس چیئرمین حج آپریٹرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہم نے سعودی عرب میں پانچ سال کے رہائشی معاہدے کیے ہیں، جس ملک کو حج کوٹہ ملتا ہے اس کی مرضی ہے وہ کیسے اس کا انتظام کرتا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس پیر کو سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے مذبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی نے سعودی عرب کی جانب سے لکھے گئے حالیہ خط پر غور کیا جس میں پاکستان کے حج آپریٹرز کی تعداد 905 سے کم کرکے 46 کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

نگران وفاقی وزیر برائے مذہبی امور انیق احمد نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ سعودی وزیر برائے مذہبی امور سے ملاقات کر کے پیر کی صبح پاکستان آیا ہوں، سعودی حکومت نے دو ٹوک فیصلہ کیا ہے کہ صرف 46 کمپنیاں ہی پاکستان سے حج آپریشن چلائیں گی۔انیق احمد کا کہنا تھا ہم نگران حکومت ہیں پتہ نہیں کب تک ہیں، ہم کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیں گے کہ کوئی مسئلہ پیدا ہو۔

سینیٹر مولانا عبدالکریم کا کہنا تھا 905 کمپنیوں کو 46کمپنیوں میں تبدیل کرنے سے مسائل تو ہوں گے، سعودی حکومت چند سال پہلے امریکا اور یورپی ممالک پر ایسی پابندی لگا کر عمل کرا چکی ہے، سعودی حکومت امریکا اور یورپی ممالک کا احتجاج مسترد کر چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا ہم کر تو کچھ نہیں سکتے مگر ایک سال کے لیے گنجائش کی درخواست کر سکتے ہیں، سعودی حکومت سے خط میں کہا جا سکتا ہے چونکہ فیصلہ اچانک ہوا اس لیے اس پر عمل درآمد سے مشکلات پیش آئیں گی۔

سینیٹر مولانا فیض محمد نے کہا کہ اگلے سال سے نئے پلان پر عمل کی یقین دہانی کرا دی جائے، ہمیں سعودی عرب کے ساتھ بات کرکے مسئلہ حل کرنا ہو گا۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کا کہنا تھا سعودی عرب سے 900 حج کمپنیوں کو 46 کمپنیوں میں بدلنے کے فیصلے پر نظرثانی کا کہا مگر وہ نہیں مانے، قائمہ کمیٹی کے کہنے پر سعودی حکومت کو خط لکھ دیتے ہیں۔ سینیٹر عبدالکریم نے کہا کہ ایک مسئلہ یہ پیدا ہو رہا ہیکہ یہاں کی کمپنیوں کو تو پکڑ سکتے ہیں سعودی کمپنیوں سے کیسے پوچھیں گے۔

وفاقی وزیر انیق احمد کا کہنا تھا سعودی حکومت حجاج کی تعداد ایک کروڑ تک کرنے کا پلان رکھتی ہے، اس وقت روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ صرف اسلام آباد سے چل رہا ہے، سعودی حکومت نیکراچی کو اگلے حج میں روڈ ٹو مکہ میں شامل کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔ حکام وزارت مذہبی امور نے بتایا کہ حج پالیسی 2024 جلد منظوری کے لیے کابینہ میں پیش کی جائے گی جبکہ نگران وفاقی وزیر کا کہنا تھا حج کا دورانیہ 45 روز سے کم کرنے کی تجویز ہے۔

نگران وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کا کہنا تھا ہر حاجی کو 2 سوٹ کیس دیں گے، کیو آر کوڈ ہونے کے باعث گم ہونے کا اندیشہ نہیں ہو گا۔انیق احمد نے بتایا کہ سعودی عرب سے واٹس ایپ کال نہیں ہو سکتی، حکومت پاکستان سم دے گی جس میں 4000 روپے سے 45 روز تک مفت ویڈیو کال ہو سکے گی جبکہ مکہ اور مدینہ میں اراضی لے کر خود تعمیرات کرنے کی تجویز ہے۔ان کا کہنا تھا 2024 میں 18 سے 20 دن کے حج کا پیکیج بھی دیا جائے گا، 40 دن یا مختصر حج کا فیصلہ حجاج کرام خود کریں گے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین کا کہنا تھا مختصر حج کا دوارنیہ 30 دن تک کیا جائے جس پر نگران وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے کہا کہ اس تجویز پر غور کیا جائے گا۔

نگران وفاقی وزیر برائے مذہبی امور انیق احمد نے کہا کہ سعودی عرب عازمین حج کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس سلسلے میں تمام مسلم ممالک کو خط بھیجے گے ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ سال 2024 کے لئے حج آپریٹرز کو استثنی فراہم کیا جائے اور سعودی حکومت کی جانب سے آپریٹرز کی مجوزہ تعداد کو 100 تک بڑھایا جائے۔

وزارت کی جانب سے قائمہ کمیٹی کو 2023 کی حج پالیسی اور وزارت کی طرف سے کئے گئے انتظامات پر بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ 2023 کے لیے حج کوٹہ 179,210 تھا جسے حکومت اور نجی شعبوں میں برابری پر تقسیم کیا گیا تھا۔

شمالی علاقہ جات کے لیے حج کا خرچہ11,75,000روپے اور جنوبی علاقے کے لئے 11,65,00 روپے تھا۔ تاہم، حج سے واپسی پر ہر حاجی کو اوسطا 97,00 روپے سے 132,00 روپے کی رقم واپس کی گئی۔

حکام نے مزید کہا کہ 2023 کے حج کے دوران کھانے، رہائش اور نقل و حمل سے متعلق تقریبا 21,244 شکایات موصول ہوئی تھیں اور خوش قسمتی سے تمام شکایات کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔مزید برآں، قائمہ کمیٹی کو 2024 کے حج کے لیے وزارت کی جانب سے تیاریوں کے متعلق آگاہ کیا گیا۔

روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ پر گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی نے بتایا کہ وزارت سعودی حکومت کے ساتھ مکہ پراجیکٹ کو توسیع دینے کے لئے بات چیت کر رہی ہے، جو فی الحال اسلام آباد ایئرپورٹ پر دستیاب ہے اسے کراچی اور لاہور تک بھی مہیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس توسیع کا مقصد پراجیکٹ کے ذریعے مزید حاجیوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

اجلاس میں سینیٹر گردیپ سنگھ، سینیٹر مولوی فیض محمد، سینیٹر انور لال ڈین، سینیٹر پروفیسر ساجد میر، سینیٹر نصیب اللہ بازئی، سینیٹر حافظ عبدالکریم، سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان، نگراں وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی انیق نے شرکت کی۔ احمد اور وزارت کے دیگر سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں