خلیجی ممالک کی مزدورمنڈیوں تک رسائی کےخواہاں ہنرمند کارکنان کے لیے مخصوص پروگرام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایک پاکستانی یونیورسٹی کے حکام نے کہا کہ ان کا تعلیمی ادارہ ہنر مند کارکنوں کے لیے ایسا سرٹیفکیٹ پروگرام شروع کرنے کو تیار ہے جس کی توجہ بنیادی طور پر کارکنوں کی سطحِ آمدن کو بڑھانے پر مرکوز ہے باخصوص وہ لوگ جو خلیجی ممالک میں ملازمت کرتے یا کرنے کے خواہاں ہیں۔

ریکاگنیشن آف پرائر لرننگ پروگرام کے عنوان سے کراچی کا گرین وچ یونیورسٹی گلوبل انسٹی ٹیوٹ اگلے ماہ سے یہ پروگرام شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یونیورسٹی حکام کے مطابق یہ پروگرام پاکستانی کارکنان کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو ہنر سے آراستہ تو ہیں لیکن سند یافتہ نہیں اور اس وجہ سے ملازمت کے بہتر مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔ پروگرام کا مقصد ان کی آمدنی کی سطح کو بڑھانا اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔

خلیجی ممالک پاکستان کی افرادی قوت کی برآمدات کے لیے ایک مثالی منزل ہیں جن میں تنہا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ملک کے 73 فیصد تارکینِ وطن مزدوروں کو ملازمت دیتے ہیں۔ مزید برآں پاکستان کے ادارۂ شماریات (پی بی ایس) کے کے اعداد و شمار کے مطابق اس خطے نے 540,282 پاکستانی افراد کے 90 فیصد سے زیادہ کو روزگار فراہم کیا جو اس سال اگست 2023 تک بیرونِ ملک ملازمت کے مواقع کی تلاش میں سرگرداں تھے۔

جنوبی ایشیائی ملک نے 2022 میں 832,339 کارکنان برآمد کیے جن میں سے 799,507 یا 96 فیصد کو صرف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، عمان اور کویت میں ملازمت کے مواقع ملے۔ 2022 کے دوران برآمد کردہ کل افرادی قوت میں سے 43 فیصد یا 361,105 افراد غیر ہنر مند جبکہ تقریباً 10 فیصد یا 846,60 کارکن نیم ہنر مند تھے۔

گرین وچ یونیورسٹی کی وائس چانسلر سیما مغل نے ہفتے کے روز عرب نیوز کو بتایا، "گرین وچ گلوبل انسٹی ٹیوٹ میں ہمارے لیے باعثِ تشویش یہ بات ہے کہ افرادی قوت بنیادی طور پر ہنر مند تو ہے لیکن ان کے پاس سرٹیفیکیشن نہیں ہے جبکہ ان کی پیشگی تعلیم کو تسلیم کرنا بہت ضروری ہے۔"

انہوں نے کہا، پاکستانی کارکنان بالخصوص خلیجی ممالک میں رہنے والے اپنے ہنر میں تجربہ کار تو تھے لیکن ان کے پاس مطلوبہ سرٹیفیکیشن نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ پاکستان میں زیادہ پیسے کما کر اپنے خاندانوں کا معیار زندگی بہتر نہیں بنا سکتے تھے۔

آر پی ایل کو پاکستان کے صوبائی ٹیکنیکل بورڈز کی حمایت حاصل ہوگی جبکہ سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) صوبوں میں کارکنان کے لیے جانچ اور آزمائش کی سہولیات چار مقامات پر دستیاب ہوں گی۔ یونیورسٹی حکام نے بتایا کہ پروگرام کا ڈیٹا مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں، افرادی قوت کے برآمد کنندگان اور بیرونِ ملک پاکستانی مشنز کے لیے دستیاب ہوگا۔

آر پی ایل کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور اوورسیز افرادی قوت کے پروموٹر عدنان پراچہ نے کہا کہ سرٹیفیکیشن پاکستانی کارکنوں کے لیے روزگار کے امکانات میں اضافہ کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ وہ بہتر تنخواہ کے پیکج حاصل کر سکیں گے۔

پراچہ نے عرب نیوز کو بتایا، "اس وقت غیر ہنر مند کارکنان کو خلیجی ریاستوں میں تقریباً 1,000 ریال یا درہم مل رہے ہیں اور اس سرٹیفیکیشن کے ذریعے ان کی تصدیق کی جائے گی اور وہ 1,500 سے 1,800 سعودی ریال یا درہم حاصل کر سکیں گے اور ان کی ہنر مند کارکنان کے طور پر درجہ بندی کی جائے گی۔"

انہوں نے کہا کہ آئندہ سالوں میں سعودی عرب میں ہنر مند افرادی قوت کی طلب میں اضافہ ہوتا رہے گا کیونکہ مملکت وژن 2030 منصوبے کے تحت اپنی معیشت کو جدید خطوط پر مستحکم کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسا اسٹریٹجک ترقیاتی فریم ورک جس کا مقصد تیل پر سعودی عرب کا انحصار کم کرنا ہے۔

پراچہ نے مزید کہا، "اس وقت سعودی عرب ہماری افرادی قوت کی اہم برآمدی منزل ہے اور یہ رجحان جاری رہے گا کیونکہ مملکت نئے شہروں اور مطلوبہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے 500 بلین ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔"

سیما مغل اور عدنان پراچہ دونوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سرٹیفیکیشن پروگرام پاکستان کے لیے ترسیلاتِ زر میں بھی نمایاں اضافہ کرے گا۔ جنوبی ایشیائی ملک اپنی نقدی کی کمی کا شکار معیشت کو رواں رکھنے کے لیے ترسیلات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ سٹیٹ بینک پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوبی ایشیائی ملک کو حالیہ ختم ہونے والے مالی سال 23 کے دوران 27 بلین ڈالر کی ترسیلاتِ زر وصول ہوئیں۔

مالی سال 23 کے دوران پاکستانی کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کی رقوم میں سب سے زیادہ حصہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں