عمران خان ابھی اٹک جیل میں ہیں، اڈیالہ نہیں منتقل کیا گیا: انتظامیہ

چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ میں اٹیچ باتھ اور دیگر سہولیات میسر ہوں گی جو کہ سابق وزیر اعظم کے لیے جیل کے قوانین کے تحت قابل قبول ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اٹک جیل کی انتظامیہ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

جیل انتظامیہ نے کہا ہے کہ عمران خان اٹک جیل میں ہی موجود ہیں، انہیں اڈیالہ منتقل نہیں کیا گیا۔ عمران خان کی اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقلی کے حوالے سے اطلاعات درست نہیں، انہیں ابھی تک اٹک جیل میں اسی کمرے میں رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ (سابق ٹوئٹر)پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ سائفر کیس میں گرفتار عمران خان کو اٹک سے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

نعیم پنجوتھا کے حوالے سے یہ خبریں بھی ذرائع ابلاغ پر جاری کی گئیں کہ اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹیچ باتھ روم کی سہولت کے علاوہ دیگر سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں جو کہ کسی بھی سابق وزیر اعظم کو جیل منتقلی پر مہیا کی جاتی ہیں۔

تاہم عمران خان کے وکیل کی جانب سے ایکس پر پوسٹ کی گئی خبر کی تردید کرتے ہوئے اٹک جیل کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو تا حال اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل نہیں کیا گیا، جب ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ اسلام آباد کی جانب سے مقدمے کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری ہونے کے بعد ہی عمران خان کو اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کیا جائے گا۔

قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے حکم دیا تھا کہ عمران خان کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے۔

عمران خان کے ایک اور وکیل شیر افضل مروت نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘پر دعوی کیا تھا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل شفٹ کریں۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ قانون کے مطابق اسلام آباد کے انڈر ٹرائل قیدیوں کو اڈیالہ جیل میں رکھا جاتا ہے، عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کریں۔

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل سے جواب طلب کر لیا، عدالت نے استفسار کیا کہ کل اگر آپ رحیم یار خان کی جیل میں بھیج دیں تو وہاں جیل ٹرائل کریں گے۔

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے جواب طلب کر لیا۔ دوران سماعت وکیل نے استدعا کی کہ چیئرمین پی ٹی آئی سپورٹس مین ہیں انہیں ایکسرسائز مشین فراہم کی جائے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ جیل رولز کے مطابق وہ جن چیزوں کے حقدار ہیں ملنی چاہئیں، حق تلفی نہ ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں