روس نے پاکستان کو براستہ ایران ایل پی جی کی پہلی کھیپ فراہم کرنے کی تصدیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسلام آباد میں متعین روسی سفارتی مشن نے ایران کے راستے پاکستان کو ایک لاکھ میٹرک ٹن مائع پیٹرولیم گیس [ایل پی جی] کی فراہمی کی تصدیق کر دی۔ یہ فراہمی دونوں ممالک کے درمیان توانائی کی تجارت میں ایک توسیعی اقدام کے تحت ہوئی ہے۔

حکومتی معاہدے کے بعد 11 جون کو پاکستان نے ایک لاکھ ٹن روسی خام تیل رعایتی قیمت پر درآمد کیا جسے سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے معاشی جدوجہد کرنے والے جنوبی ایشیائی ملک کے لیے "تبدیلی کا دن" قرار دیا تھا۔

ایل پی جی کی ترسیل کا اعلان روسی سفارت خانے نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ایسے وقت میں کیا جب پاکستان اپنے توانائی کے پورٹ فولیو کو مزید سستے اختیارات کے ساتھ متنوع بنانا چاہتا ہے۔

روس نے پیغام رسانی پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر کہا، "روس نے پاکستان کو 100 ہزار میٹرک ٹن کی مقدار میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی پہلی کھیپ ایران کے سرخس خصوصی اقتصادی زون کے ذریعے فراہم کی ہے۔ دوسری کھیپ پر مشاورت جاری ہے۔"

پاکستان پہلے ہی خلیجی منڈیوں سے درآمد شدہ خام تیل کو روسی تیل کے ساتھ باہم ملانا شروع کر چکا ہے۔

پاکستان آئل ریفائنری کے ایک اعلیٰ عہدیدار زاہد میر نے گذشتہ ماہ عرب نیوز کو بتایا تھا کہ ملک نے روسی خام تیل کو کامیابی سے پراسیس کر لیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماسکو کے ساتھ سپاٹ ڈیل تکنیکی اور تجارتی دونوں لحاظ سے قابلِ عمل تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کارگو کی مزید درآمدات کے لیے گفتگو جاری تھی۔

توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے پاکستان اپنے خام تیل کا تقریباً 20 فیصد رعایتی نرخوں پر روس سے درآمد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

پیٹرولیم کلب پاکستان کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق 4,600 میٹرک ٹن کی کل سالانہ کھپت کے ساتھ پاکستان مقامی پیداوار کے ذریعے اپنی ایل پی جی کی ضروریات کا تقریباً 43 فیصد پورا کرتا ہے۔

اس خبر پر تبصرے کے لیے پاکستانی حکام سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں