عدالت کے حکم پر چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک سے اڈیالہ جیل منتقلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے چیئرمین عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامت پر اٹک جیل سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا، جو توشہ خانہ کیس میں 3 سالہ قید کی سزا میں ضمانت پر رہائی کے احکامات کے بعد سائفر کیس پر گرفتار ہیں۔

اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ اسد وڑائچ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل پہنچ گئے ہیں، اڈیالہ جیل کے اطراف کی سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔

اسد وڑائچ نے کہا کہ عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پی ٹی آئی نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پارٹی کے کارکنان کو اسلام آباد ٹول پلازہ کے قریب پولیس کی سکیورٹی میں جانے والے عمران خان کی گاڑی پر پھول کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔

عمران خان کو اٹک جیل سے اڈیالہ منتقلی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے ایک روزہ بعد کی گئی ہے جہاں عدالت نے عمران خان کی جانب سے راولپنڈی منتقلی کی درخواست پر سماعت کی تھی۔

عدالت نے کہا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کی عدالتوں میں زیر ٹرائل تمام قیدیوں کو اڈیالہ جیل میں رکھا جاتا ہے اور چیئرمین پی ٹی آئی کو مذکورہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

قبل ازیں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے عمران خان کی اڈیالہ جیل منتقلی کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا تھا۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے اٹک جیل منتقلی کے تمام احکامات اور نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیے جاتے ہیں، اُن کو فوری سینٹرل جیل اڈیالہ راولپنڈی منتقل کیا جائے اور جیل میں بہتر کیٹگری کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے انہیں جیل میں ورزش کی مشینیں فراہم کرنے کی درخواست کی تھی، عدالت ورزش کی مشینیں فراہم کرنے کے احکامات جاری نہیں کرسکتی۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کا اسٹیٹس ایک انڈر ٹرائل قیدی کا ہے، اسلام آباد کی عدالتوں میں انڈر ٹرائل تمام قیدیوں کو اڈیالہ جیل میں رکھا جاتا ہے، حکومت پنجاب کو انڈر ٹرائل قیدیوں کی دوسری جیل منتقلی کا اختیار نہیں۔

عدالت کی جانب سے واضح کیا گیا کہ صرف سزا سنائے جانے کے بعد حکومتِ پنجاب قیدیوں کو دوسری جیل منتقل کرنے کا اختیار رکھتی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنے کی کوئی معقول وضاحت پیش نہیں کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں