خوشخبری! پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بالآخر دو ماہ بعد کمی کا امکان

نگران حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا یہ پہلا موقع ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں یکم اکتوبر سے 15 اکتوبر تک کی مدت کے لیے تقریباً پانچ روپے سے 19 روپے فی لیٹر کمی کا تخمینہ ظاہر کیا گیا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ کمی گذشتہ دو ماہ کے دوران پہلی بار ہو گی، جس کی بنیادی وجہ روپے کی قدر میں اضافہ ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں آخری بار جولائی کے وسط میں کمی کی گئی تھی، جب پیٹرول نو روپے فی لیٹر کم کرکے 253 روپے اور ڈیزل سات روپے فی لیٹر کم کرکے 253 روپے 50 پیسے کا کر دیا گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ موجودہ ٹیکس کی شرح اور دیگر اوور ہیڈز کی بنیاد پر آئندہ جائزے میں پیٹرول کی قیمت میں 15 سے 19 روپے فی لیٹر تک کی کمی آسکتی ہے کیونکہ اس کی عالمی قیمت میں 2 فیصد کمی آئی ہے، جو 101 ڈالر فی بیرل سے 99 ڈالر فی بیرل پر آگیا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تقریباً 10.5 روپے کا اضافہ بھی ہوا ہے۔

یہ حساب کتاب ستمبر کے پہلے 12 روز کے اثرات اور آخری 2 روز کے تخمینوں پر مبنی ہے، پیٹرول بنیادی طور پر پرائیویٹ ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے اور یہ براہ راست مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس طبقے کے بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔

اسی طرح اگر حکومت پیٹرولیم لیوی کو 50 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتی ہے تو ڈیزل کی قیمت بھی نو سے 12 روپے فی لیٹر تک گر سکتی ہے، تاہم اگر وزارت خزانہ بجٹ کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے لیوی میں پانچ روپے فی لیٹر اضافہ کرتی ہے تو ڈیزل کی قیمت میں پانچ سے آٹھ روپے فی لیٹر کمی ہوگی، پیٹرول کے برعکس عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت حالیہ چند ہفتوں کے دوران تقریباً ایک ڈالر فی بیرل بڑھ کر 122 ڈالر تک پہنچ گئی۔

ٹرانسپورٹ کا شعبہ زیادہ تر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر چلتا ہے، اس کی قیمت کو مہنگائی میں اضافے کا اہم عنصر سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ زیادہ تر ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والی بھاری گاڑیوں، بسوں، ٹرینوں اور زرعی انجنوں مثلاً ٹرک، ٹریکٹر، ٹیوب ویل اور تھریشر میں استعمال ہوتا ہے، اس کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر سبزیوں اور دیگر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

نگران حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا یہ پہلا موقع ہوگا، 15 اگست سے 15 ستمبر کے درمیان پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 58 روپے 43 پیسے اور 55 روپے 83 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہوا، دونوں مصنوعات فی الحال 333 اور 331 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہی ہیں۔

اس وقت تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی صفر ہے لیکن حکومت پیٹرول پر 60 روپے فی لیٹر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی جبکہ ڈیزل، ہائی آکٹین ملاوٹ والے اجزا اور 95 آر او این (ریسرچ آکٹین نمبر) پیٹرول پر فی لیٹر 50 روپے لیوی وصول کر رہی ہے، حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 22 سے 23 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں