پاکستانی وزیر آئی ٹی کے شعبے میں نوجوانوں کے لیے مواقع کی تلاش میں سعودی عرب جائیں گے

پاکستان کی آئی ٹی میں سرکاری برآمدات 2.6 ارب ڈالر ہیں لیکن اصل اعداد و شمار زیادہ ہونے چاہییں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان کے نگران وزیربرائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر عمر سیف آیندہ ہفتے کے روز سعودی عرب کے سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ آئی ٹی کے شعبے میں ہنر مند پاکستانیوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ان کے دورے کا مقصد دونوں ممالک میں واقع آئی ٹی فرموں اور کاروباری اداروں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔شہزادہ فہد بن منصور نے سب سے پہلے جنوری میں پاکستان میں منعقدہ فیوچر فیسٹ 2023 میں اس کا ذکر کیا تھا۔

یہ مشترکہ ٹیکنالوجی اقدام سعودی عرب کے ویژن 2030 کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتا ہے۔اس کا مقصد تیل پر انحصار کم کرنا اور مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ساتھ عالمی سرمایہ کاری کے مرکز میں تبدیل کرکے اپنی معیشت کو متنوع بنانا ہے۔

عمر سیف نے عرب نیوز سے ایک انٹرویو میں کہا ’’میں سعودی عرب میں رونما ہونے والے انقلاب کا مشاہدہ کرنے کے لیے جا رہا ہوں جہاں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن کی وجہ سے مملکت نے خود کو ایک جدید اور ترقی پسند معیشت میں ڈھال لیا ہے اور پیٹرو ڈالرز سے آگے بڑھ کر علم کی معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے، ایک ایسی معیشت جو ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے آگے بڑھتی ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ متعدد بھارتی، آئرش اور دیگر عالمی کمپنیاں اس انقلاب میں حصہ لے رہی ہیں۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے ٹیکنالوجی سے باعلم نوجوان اور آئی ٹی فرمیں بھی ویژن 2030 میں نمایاں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’میں اپنے سعودی عرب کے دورے میں جس بات چیت کی امید کرتا ہوں،اس کا یہ ایک حصہ ہے۔دوسرا حصہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے ایک بڑے موقع کے طور پر پاکستان کی کشش ہے کیونکہ یہ اس ملک میں ٹیکنالوجی کے انقلاب کے تناظر میں قدم رکھنے کے دہانے پر ہے‘‘۔

عمرسیف نے کہا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں اورخصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے فوائد کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک سول ملٹری فورم ہے جس کا مقصد ملک میں کاروبار قائم کرنے کے خواہاں کاروباری اداروں کے لیے افسرشاہی کے طریق کار کو ہموار کرکے غیر ملکی فنڈنگ کو راغب کرنا ہے۔

شہزادہ فہد بن منصور کے ٹیک ہاؤس منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ سعودی شاہی خاندان کے ساتھ اپنی ملاقات کے منتظر ہیں تاکہ اس کی پیش رفت کے بارے میں تازہ معلومات حاصل کی جا سکیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی مارکیٹ پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے انتہائی پرکشش ہے، ان میں سے بہت سی کمپنیاں پہلے ہی خطے میں منصوبوں میں مصروف ہیں۔

انھوں نے مزید کہا:’’ہم پاکستان کو ایک ایسی جگہ کے طور پر مارکیٹ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں جہاں سے خطۂ خلیج میں منصوبوں کے لیے بہت ساری تکنیکی مہارت آ سکتی ہے۔ملک میں 85 فی صد بالغ آبادی بینکوں سے محروم ہے، پاکستان میں موبائل فون مینوفیکچرنگ کے ساتھ ساتھ فن ٹیک اور ایڈٹیک کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے زبردست مواقع موجود ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر نے انٹرویو میں بتایا کہ پاکستان میں 19 کروڑ 40 لاکھ سیل فون ہیں۔براڈ بینڈ انٹرنیٹ کے سات کروڑ صارفین ہیں ، جو آئی ٹی کے شعبے میں اس کی صلاحیت کی عکاسی کرتے ہیں ، حالانکہ اس میں مناسب فائبر انفراسٹرکچر اور ڈیٹا کنکٹیویٹی کابھی فقدان ہے۔

انھوں نے کہا:’’یہ تمام چیزیں جی سی سی خطے اور سعودی عرب میں بڑی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے زبردست مواقع مہیا کرتی ہیں کہ وہ ان بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں جو یقینی طور پر پاکستان کی معیشت کو آگے بڑھائیں گے اور اس ملک سے باہر کے لوگوں کو سرمایہ کاری کے بہت اچھے مواقع مہیا کریں گے‘‘۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کی آئی ٹی کے شعبے میں سرکاری برآمدات 2.6 ارب ڈالر ہیں لیکن غیر ملکی مقامات پر سازگار ٹیکسیشن اور واپسی کی پالیسیوں کے ساتھ فنڈز رکھنے کی وجہ سے اصل اعداد و شمار زیادہ ہونا چاہییں۔ہم اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جلد ہی پاکستان کی آئی ٹی صنعت کی حقیقی صلاحیت کو دیکھنا شروع کر دیں گے۔

متحدہ عرب امارات کی اتصالات ٹیلی کام کمپنی کے ساتھ جائیداد کی منتقلی کے دیرینہ تنازع کے بارے میں پوچھے جانے پرانھوں نے کہا کہ پاکستان نئی سرمایہ کاری لانے کے لیے نئے سپیکٹرم کی 5 جی نیلامی کرنے والا ہے۔اس کی وجہ سے ملک کے لیے اس مسئلہ کو جلد حل کرنا ضروری ہے۔

انھوں نے مزید کہا، "ہمیں اس معاملے میں حقیقت پسندانہ نقطہ نظر اپنانا ہوگا کہ اس اثاثے کی کل قیمت کتنی ہے اور میرے خیال میں اتصالات میں ہمارے دوستوں کو بھی صورت حال کا تزویراتی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔جہاں ہم قدر دیکھ سکتے ہیں، وہ اسے حل بھی کرسکتے ہیں تاکہ ہم کاروبار جاری رکھ سکیں اور ہم اتصالات اور جی سی سی ممالک کی اس طرح کی کمپنیوں کے لیے بڑے مواقع مہیا کرسکیں‘‘۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا آن لائن ورک فورس والا ملک ہے جہاں قریباً پانچ لاکھ فری لانسرز اپنے مختلف النوع کام کے عوض بیرون ملک سے واجبات یا رقوم وصول کرتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا:’’ہم ’پے پال‘ کے ساتھ مل کر مصر ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے اسے (پاکستان میں) لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔وہاں انھوں نے ویزا کے ساتھ شراکت داری کی ہے‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان اگلے 60 دنوں میں اسی ماڈل کے ساتھ رقوم کی ادائی کے ایک اور پروسیسنگ پلیٹ فارم اسٹریپ کے ساتھ بھی ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے کی توقع کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں