بلوچستان: مستونگ بازار میں دھماکا، 52 افراد جاں بحق، 50 زخمی

دھماکہ میلاد النبیؐ کے جلوس سے قبل مسجد کے قریب ہوا، جاں بحق ہونے والوں میں ڈی ایس پی بھی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں جشن میلاد النبیؐ کے جلوس سے قبل مسجد کے قریب ہونے والے ’خود کش دھماکے‘ میں ایک پولیس افسر سمیت کم از کم 52 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد شہری زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق جاں بحق افراد میں ڈی ایس پی مستونگ پولیس بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق بازار میں ہونے والے دھماکے میں ابتدائی طور پر متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی۔ اسسٹنٹ کمشنر مستونگ عطاء المنعم کے مطابق دھماکا مدینہ مسجد کے قریب ہوا، جہاں لوگ عید میلاد النبیؐ کے جلوس میں شرکت کرنے کے لیے جمع ہو رہے تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر مستونگ کے مطابق زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

مستونگ میں ہلاکت خیز بم دھماکے میں زخمیوں کو جس ہسپتال میں لایا گیا، اس کی ہینڈ آؤٹ تصویر جسے رائیٹرز نے 29 ستمبر کو جاری کیا
مستونگ میں ہلاکت خیز بم دھماکے میں زخمیوں کو جس ہسپتال میں لایا گیا، اس کی ہینڈ آؤٹ تصویر جسے رائیٹرز نے 29 ستمبر کو جاری کیا

بعد ازاں نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ مستونگ دھماکے میں کم سے کم 34 افراد جاں بحق ہوئے اور 100 زخمی ہوئے، مستونگ دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیموں کو مستونگ روانہ کر دیا گیا ہے، شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے اور کوئٹہ کے اسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ جان اچکزئی کا کہنا ہے کہ غیر ملکی آشیرباد سے دشمن بلوچستان میں مذہبی رواداری اور امن تباہ کرنا چاہتا ہے۔

نگران وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے مستونگ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بےگناہ انسانوں کا خون بہانے والے انسانیت کے دشمن ہیں۔

عید میلاد النبیﷺ کے موقعے پر آج ملک کے مختلف علاقوں کی طرح بلوچستان میں موبائل فون سگنلز بند ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں