خلیج تعاون کونسل اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے مذاکرات کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جی سی سی نے نے جمعرات کو پیغام رسانی پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) اور پاکستان نے آزادانہ تجارت کے معاہدے کی "ابتدا" کی۔

معاہدے پر جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البديوی اور پاکستانی وزیرِ تجارت ڈاکٹر جوہر اعجاز نے دستخط کیے۔

جی سی سی کی جانب سے جمعرات کو جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق تنظیم کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البديوی نے کہا کہ ’پاکستان کے ساتھ ابتدائی معاہدہ ممالک اور بین الاقوامی سطح پر مضبوط تجارتی اور معاشی تعاون کی نشاندہی کرتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ ممالک کے درمیان مضبوط معاشی تعلقات اور معاشی ترقی کا عکاس ہے جس سے فریقین کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔

خلیج تعاون تنظیم کے ممالک کا پاکستان کی معیشت میں ایک اہم کردار ہے جو توانائی کی درآمدات اور غیر ملکی زرمبادلہ کے لیے اہم ذرائع ہیں۔ پاکستانی ورکرز کی سب سے زیادہ تعداد انہی ممالک میں رہائش پذیر ہے۔ اس وقت تقریباً 40 لاکھ پاکستانی ورکرز جی سی سی ممالک میں کام کر رہے ہیں۔

پاکستان کا سال 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت بننے کا ہدف ایسے ٹھوس اقدامات پر منحصر ہے جو دوطرفہ تجارت کے انتہائی کم حجم کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوں۔ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا سالانہ حجم تین ارب ڈالر کی مالیت کا ہے۔

جی سی سی ممالک میں سعودی عرب، کویت، بحرین، عمان، قطر، متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق ان کی مجموعی قومی پیداوار 1.6 ٹریلین ڈالر ہے جب کہ کونسل میں شامل ممالک کی کل آبادی 57 ملین نفوس پر مشتمل ہے۔

اگر تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو پاکستان نے ہمیشہ سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی، دفاعی اور ثقافتی تعلقات کو اولین ترجیح دی ہے۔

ان تعلقات کی بنیادی وجہ نہ صرف مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی ہے بلکہ معاشی ضروریات کے علاوہ علاقائی اور عالمی امن کی مشترکہ خواہش بھی ہے۔

آئی ٹی اور سروسز کے شعبے میں ہنر مند پاکستانی افراد خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب میں ہونے والی اقتصادی تبدیلیوں سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں