بلوچستان سکیورٹی فورسز نے چھ یرغمال فٹبالرز میں چار بازیاب کروا لیے: اہلکار

ڈیرہ بگٹی سے نامعلوم مسلح افراد نے فٹبالرز کو اغوا کیا تھا جنہیں اب 20 روز بعد رہائی ملی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار نے پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں 20 دن قبل اغوا ہونے والے چھ میں سے چار فٹبالرز کو بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے باقی دو کو بھی "جلد ہی" بازیاب کروانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

مقامی فٹبالرز جن کی عمریں 17 سے 20 سال کے درمیان تھیں، کو نو ستمبر کو بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے شہر سوئی کے گیس فیلڈ ٹاؤن سے نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت اغوا کر لیا جب وہ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

بلوچستان کے نگراں وزیرِ کھیل و ثقافت نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے ایک بیان میں کہا، "سکیورٹی فورسز نے ڈیرہ بگٹی سے اغوا شدہ چھ فٹبال کھلاڑیوں میں سے چار کو بازیاب کر لیا ہے جو سبی وزیرِ اعلیٰ گولڈ کپ ٹورنامنٹ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ باقی دو کھلاڑی بھی جلد بازیاب ہو جائیں گے۔"

انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ فٹبالرز کو کس نے اغوا کیا تھا۔

رئیسانی نے بتایا کہ بازیاب کردہ فٹبالرز کے نام عامر بگٹی، محمد یاسر بگٹی، فیصل بگٹی اور سہیل بگٹی ہیں۔ وزیر نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہیں اور فٹبالرز کی بازیابی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

فٹبالر محمد یاسر بگٹی کے والد امیر بخش نے تصدیق کی کہ ان کا بیٹا بھی ان تین دیگر یرغمال کھلاڑیوں میں شامل تھا جو بحفاظت گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔

بگٹی نے ڈیرہ بگٹی سے فون پر عرب نیوز کو بتایا، "ہمیں حکام کی طرف سے اطلاع ملی کہ میرا بیٹا محمد یاسر بازیاب ہو گیا ہے۔ ہم خوش ہیں کہ ہمارے بچے گھر واپس آ گئے ہیں۔"

بگٹی نے کہا کہ انہیں نہ تو کسی گروپ کی طرف سے تاوان کی کال موصول ہوئی ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے کوئی رقم ادا کی ہے۔

پاکستان کے گیس سے مالا مال صوبے بلوچستان میں تقریباً دو عشروں سے علاحدگی پسندوں کی جانب سے نچلی سطح کی شورش جاری ہے۔ علاحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ اس چیز کے خلاف لڑ رہے ہیں جو ان کے نزدیک ریاست کی طرف سے صوبے کی دولت کا ناجائر استحصال ہے۔ جبکہ پاکستانی حکام اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں