پولیو زدہ آسو بائی نے سندھ میں جہالت کے خلاف مشکل جنگ کیسے جیتی؟

معذور خاتون نے پاکستان کے جنوب مشرقی دیہات میں تعلیم کو مکمل تبدیل کر کے 'بہت دور کا اپنا خواب' پورا کر دکھایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

تقریباً 35 سالہ خاتون کو اس کا بھائی موٹر سائیکل پر بٹھا کر تنگ گلیوں سے لے جا رہا ہے جہاں سکول جانے والے بچوں کی رونق ہے۔ یہ خاتون پاکستان کے جنوب مشرقی صوبہ سندھ کے ایک ویران قصبے میں برسوں پہلے قائم کردہ تعلیمی ادارے کی طرف گامزن ہے۔

آسو بائی کولہی کا صبح کا سفر بس روزانہ کا معمول نہیں ہے بلکہ اسے بجا طور پر زندگی کے چیلنجوں پر فتح سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ دو سال کی عمر میں ایک غلط انجیکشن کی وجہ سے پولیو میں مبتلا ہو جانے والی آسو نے اس کمزور حالت کو اپنی تقدیر بننے دینے سے انکار کر دیا اور دوسروں کی زندگیوں پر نمایاں اثر ڈالنے کی راہ منتخب کی۔

ایک عشرہ قبل – پاکستان کے واحد ہندو اکثریتی ضلع عمر کوٹ کے مضافات میں ان کے گاؤں مینا جی دھانی – میں تعلیم کی اہمیت کو زیادہ تر نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔ 2014 میں کولہی نے اپنی معمولی جھونپڑی میں ایک اسکول قائم کر کے پسماندہ بچوں کو ازخود تعلیم سے روشناس کروانے کا ذمہ لیا۔

بغیر کسی بیرونی فنڈنگ کے انہوں نے انتھک محنت کے ساتھ اپنے گاؤں کی تشہیر اور چندہ جمع کیا۔ اس کے لیے انہوں نے خاندانوں سے بات چیت کی اور والدین کو بچوں کی تعلیم کو ترجیح دینے کی ترغیب دی۔ یہاں تک کہ انہوں نے کتابیں اور سیکھنے سکھانے کا دیگر مواد فراہم کرنے کے لیے اپنی جیبیں خالی کر دیں جو علاقے کی پوری کمیونٹی کی ترقی کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کا اظہار ہے۔

کولہی نے عرب نیوز کو بتایا، "ہم ایک ایسے معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں لڑکی کو تعلیم دینا ایک دور کا خواب ہے۔ لیکن میرے والد نے اسی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنی بیٹی کو تعلیم دلانے کا سوچا تاکہ ہمارے اردگرد کی جہالت کا خاتمہ ہو سکے۔"

27 ستمبر 2023 کی اس تصویر میں پولیو میں مبتلا آسو بائی کولہی صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ کے گاؤں مینا جی دھانی میں واقع کبو مال کولہی ہائی اسکول میں اپنے کلاس روم کی طرف جارہی ہیں: فوٹو عرب نیوز
27 ستمبر 2023 کی اس تصویر میں پولیو میں مبتلا آسو بائی کولہی صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ کے گاؤں مینا جی دھانی میں واقع کبو مال کولہی ہائی اسکول میں اپنے کلاس روم کی طرف جارہی ہیں: فوٹو عرب نیوز

انہوں نے کہا کہ جہاں کئی والدین اپنے بچوں سے ڈاکٹر، انجینئر یا افسر بننے کی امید رکھتے تھے، ان کے والد کا اسی دن سے ایک مختلف نقطۂ نظر تھا جب انہوں نے اپنا اسکول شروع کیا اور اپنی بیٹی کو ٹیچر بنانے کی خواہش ظاہر کی۔

درمیآنے درجے کا تعلیمی مرکز قائم کرنے سے پہلے وہ بچوں کو تعلیم دینے کے لیے اپنے گاؤں میں گھروں میں جایا کرتی تھیں۔

وہ یاد کرتی ہیں۔ "میں نے (ایک ایسے وقت میں) پانچویں جماعت تک بچوں کو پڑھانا شروع کیا جب اس گاؤں کے لوگوں میں کوئی شعور نہیں تھا۔ لوگ اپنے بچوں کو 50 روپے یومیہ کا لالچ دے کر کام پر بھیجتے تھے۔"

27 ستمبر 2023 کی اس تصویر میں پولیو میں مبتلا آسو بائی کولہی صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ کے گاؤں مینا جی دھانی میں کبو مال کولہی ہائی اسکول کے ایک کلاس روم میں بورڈ پر لکھ رہی ہیں: فوٹو عرب نیوز
27 ستمبر 2023 کی اس تصویر میں پولیو میں مبتلا آسو بائی کولہی صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ کے گاؤں مینا جی دھانی میں کبو مال کولہی ہائی اسکول کے ایک کلاس روم میں بورڈ پر لکھ رہی ہیں: فوٹو عرب نیوز

ان کی کوششوں کے نتیجے میں گاؤں کے لوگ اپنے بچوں کے لیے تعلیم کے خیال کو زیادہ فراخدلی سے قبول کرنے لگے۔ بہت سے لوگوں نے بچوں کو داخل کروانے کے لیے ان سے رجوع کرنا شروع کر دیا۔

آج کبو مال کولہی ہائی اسکول کے لیے 500 طلباء کا اندراج باعثِ فخر ہے جس میں نوجوان لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شامل ہے اور سکول کی رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔

چھٹی جماعت کی ایک 11 سالہ طالبہ اور ایک کسان کی بیٹی قیصر بائی قریبی گاؤں سے روزانہ سفر کرتی ہے۔ اس کی خواہش کولہی کے نقش قدم پر چلنا، ٹیچر بننا اور اپنی کمیونٹی کی خدمت کرنا ہے۔

کولہی نے عزم کے ساتھ اعلان کیا، "میں اس مقصد کے ساتھ اسکول کے لیے کام جاری رکھوں گی کہ کاشتکار خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ان پسماندہ بچوں کو پڑھنے اور ڈاکٹر اور افسر بننے میں مدد کروں۔"

 27 ستمبر 2023 کی اس تصویر میں صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ کے گاؤں مینا جی دھانی میں کبو مال کولہی ہائی اسکول میں 11 سالہ طالبہ اور ایک کسان کی بیٹی قیصر کلاس روم میں اپنی کتاب پڑھ رہی ہے: فوٹو عرب نیوز
27 ستمبر 2023 کی اس تصویر میں صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ کے گاؤں مینا جی دھانی میں کبو مال کولہی ہائی اسکول میں 11 سالہ طالبہ اور ایک کسان کی بیٹی قیصر کلاس روم میں اپنی کتاب پڑھ رہی ہے: فوٹو عرب نیوز

اسکول کو فی الحال سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی مدد حاصل ہے اور اس میں 10 مرد اور دو خواتین اساتذہ ملازم ہیں۔ ان کی اوسطاً 15,000 روپے ماہانہ کی تنخواہیں طلباء کے اندراج کی تعداد کی بنا پر متعین کی جاتی ہیں۔

گاؤں کے ایک سماجی کارکن جنیب دلوانی نے کہا کہ اسکول کو اعلیٰ ثانوی درجہ بھی ملنا چاہیے تاکہ لڑکیاں یونیورسٹی جا سکیں۔

انہوں نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا، "دیہات کا ماحول اتنا خراب ہے کہ ایک لڑکی ایک کلومیٹر دور بھی تعلیم کے لیے نہیں جا سکتی۔ گاؤں میں ایسی سہولت ہونی چاہیے کہ لڑکیاں یہیں رہ کر تعلیم حاصل کر سکیں۔"

دلوانی نے مزید کہا کہ اگر ایسا اثر انگیز کام ایک معمولی جھونپڑی سے رضاکارانہ طور پر کیا جا سکتا ہے تو زیادہ وسائل کولہی کو پورے صوبہ سندھ میں تبدیلی لانے کے قابل بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "آسو بائی کی جدوجہد صرف اس گاؤں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے ضلع اور سندھ کے بیشتر حصوں میں پھیلے گی۔"

27 ستمبر 2023 کی اس تصویر میں پولیو میں مبتلا خاتون آسو بائی کولہی صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ کے گاؤں مینا جی دھانی میں واقع کبو مال کولہی ہائی اسکول میں ایک طالب علم کو پڑھا رہی ہیں: فوٹو عرب نیوز
27 ستمبر 2023 کی اس تصویر میں پولیو میں مبتلا خاتون آسو بائی کولہی صوبہ سندھ کے ضلع عمر کوٹ کے گاؤں مینا جی دھانی میں واقع کبو مال کولہی ہائی اسکول میں ایک طالب علم کو پڑھا رہی ہیں: فوٹو عرب نیوز

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں