میانوالی پولیس پر کالعدم دہشت گرد تنظیم کا حملہ ناکام بنا دیا گیا

فائرنگ کے تبادلے میں ایک کانسٹیبل جاں بحق، دو حملہ آور ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پنجاب پولیس نے کہا کہ میانوالی میں حملہ آوروں نے ہفتے کی شب کنڈل کے مقام پر پیٹرولنگ پوسٹ پر حملہ کیا جس میں ہیڈ کانسٹیبل ہارون خان جان بحق جبکہ جوابی کارروائی میں دو ’دہشت گرد‘ بھی مارے گئے۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق 10 سے 12 دہشت گردوں نے کنڈل پیٹرولنگ پوسٹ پر حملہ کیا تو چھت پر تعینات جوان کی فائرنگ سے دو دہشت گرد مارے گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

اس حوالے سے آئی جی پنجاب کا بتانا ہے کہ دہشت گردوں نے دو اطراف سے حملہ کیا تھا جن کی فائرنگ سے ایک اہلکار نے جامِ شہادت نوش کیا ہے۔

آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے حملے سے متعلق ہمارے پاس اطلاعات تھیں، ملک میں حالیہ دہشت گردی کی لہر میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے پیچھے محرکات کو سب جانتے ہیں، اگلے دو سے چار گھنٹوں میں دہشت گردوں کی شناخت ہو جائے گی۔

آئی جی پنجاب کے مطابق حملے کے بعد ایس ایم ڈی لائٹس کے ساتھ سی ٹی ڈی کی ٹیمیں پہنچ گئی تھیں۔

پولیس کے مطابق حملے کے بعد دہشت گرد فرار ہو گئے۔

پنجاب پولیس ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں حملہ آوروں کی شناخت کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرہ) اور دیگر ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس میں کہا کہ حملہ آوروں نے ’ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔‘

ملک میں حال ہی میں دہشت گردی کی لہر جارہی ہے۔ 12 ربیع الاول کو بلوچستان کے شہر مستونگ میں عید میلاد النبیﷺ کے جلوس اور خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کی ایک مسجد میں خودکش حملے ہوئے ہیں جن میں کم از کم 50 سے زائد اموات ہوئی ہیں جب کہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں