غیر قانونی پیوند کاری آپریشن کرنے پر پاکستانی ڈاکٹر اور مکینک گرفتار

پیوندکاری کے سینکڑوں آپریشن، ایک گردہ تبدیل کرنے کی قیمت دس ملین تک جا پہنچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حکام نے بتایا کہ پاکستانی پولیس نے اعضاء کی اسمگلنگ کرنے والے ایک گروہ کا سراغ لگایا ہے جسے ایک بدنام ڈاکٹر اور ایک موٹر مکینک چلاتے تھے اور انہوں نے گردہ تبدیلی کے کم از کم 328 غیر قانونی پیوند کاری آپریشن کیے تھے۔

پولیس کی تحقیقات کے مطابق فواد مختار -- ایک ڈاکٹر جو پہلے ہی بدعنوانی کے الزام میں پانچ بار گرفتار ہو چکا ہے -- نے ایک نامعلوم مکینک کو سرجیکل اسسٹنٹ اور بے ہوشی کے ماہر کے طور پر کمزور مریضوں پر استعمال کیا جنہیں جھانسہ دے کر ہسپتالوں سے لایا گیا تھا۔

صوبہ پنجاب کے نگراں وزیرِ اعلیٰ محسن نقوی نے کہا کہ پیوند کاری آپریشن نجی علاج گاہوں میں بعض اوقات مریض کومعلومات فراہم کیے بغیر کیے جاتے تھے جن سے ملنے والا ایک گردے 10 ملین روپے ($35,000) تک فروخت ہوتا ہے۔

گرفتار شدہ آٹھ رکنی گینگ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ پنجاب کے مشرقی اضلاع کے ساتھ ساتھ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی کام کر رہا تھا جس سے کم از کم تین ہلاکتیں ہوئیں۔

محسن نقوی نے اتوار کی رات ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا، "ہمارے پاس جو حقائق اور اعداد وشمار آئے ہیں ان سے دل دہل جاتا ہے۔ پیوند کاری اور غیر قانونی جراحت کی تعداد ان اعداد وشمار سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کی ہم نے تصدیق کی ہے۔"

پاکستان نے 2010 میں انسانی اعضاء کی کاروباری تجارت کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور استحصالی ایجنٹس پر دس سال کی طویل قید اور بھاری جرمانے اس امید پر عائد کیے گئے کہ بیرونِ ملک مقیم گاہکوں کو فروخت رک جائے گی۔

جنوری میں پنجاب پولیس نے انسانی اعضاء کی اسمگلنگ کے ایک اور گروہ کا کھوج لگایا تھا جب ایک لاپتا 14 سالہ لڑکا ایک زیر زمین لیبارٹری میں پایا گیا جہاں اس کا گردہ نکال لیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں