پاکستان کے شہر گلگت میں خواتین کی نئی مارکیٹ جواہرات اور دستکاری کی ’ون اسٹاپ شاپ‘

خطے کے شاندار ثقافتی ورثے پر مبنی دستکاری مصنوعات کی وسیع اقسام دستیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ہر روز فجر کے وقت 28 سالہ حسینہ فرمان دریا کنارے دستکاری شالوں، سویٹروں، جواہرات اور آرائشی اشیاء کی دکان کھولتی ہیں اور گاہکوں کا انتظار کرتی ہیں۔

حال ہی میں افتتاح شدہ اور خواتین کی ماحول دوست مارکیٹ پہاڑی شمالی شہر گلگت میں کاروباری خواتین کے لیے ایک خداداد تحفہ بن گئی ہے۔ جب سے حسینہ نے یہاں اسٹور کھولا ہے ان کا کاروبار اچھا جا رہا ہے۔

اس مارکیٹ کے قیام کا مقصد سیاحت کو فروغ دینا اور مقامی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا ہے۔

یہ مارکیٹ گلگت ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور خواتین کے ایوانِ صنعت و تجارت کا مشترکہ منصوبہ ہے جس کا اگست میں افتتاح کیا گیا تھا اور اس میں اب تک 24 دکانیں ہیں۔ مارکیٹ نے فرمان جیسی کاروباری خواتین کے الفاظ میں انہیں ایک ایسے خطے میں ایک "خصوصی مقام" دیا ہے جہاں پاکستان کے کئی دیگر حصوں کی طرح ثقافتی اور مذہبی اصول اور معاشرتی توقعات کاروباری شعبے میں خواتین کے داخلے کے لیے رکاوٹ کا کام کرتی ہیں۔

گلگت بلتستان کے محکمۂ تعلیم کے مطابق اس علاقے میں خواتین کی شرحِ خواندگی 41 فیصد جبکہ مردوں کی 66 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایک غیر منافع بخش کمپنی آغا خان رورل سپورٹ نیٹ ورک کے اعداد و شمار کے مطابق بلند شرحِ خواندگی کے باوجود خواتین گلگت بلتستان میں افرادی وقت کا صرف 15.5 فیصد ہیں۔

فرمان نے عرب نیوز کو بتایا، "اس سے پہلے ہم [خواتین] کے پاس [اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے] کوئی خاص جگہ نہیں تھی۔ میں یہ چیزیں اپنے کزنز، رشتہ داروں اور بہنوں کے لیے بناتی تھی۔ یہ مارکیٹ کھلنے کے بعد ہمیں ایک مناسب سیٹ اپ مل گیا ہے۔"

30 ستمبر 2023 کی یہ تصویر پاکستان کے گلگت میں جواہرات اور دستکاری کی مارکیٹ میں ایک دکان کی ہے۔ (اے این فوٹو)
30 ستمبر 2023 کی یہ تصویر پاکستان کے گلگت میں جواہرات اور دستکاری کی مارکیٹ میں ایک دکان کی ہے۔ (اے این فوٹو)

"اب تک یہ اچھا جا رہا ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی ایسا ہی رہے گا۔"

مارکیٹ میں جواہرات، کوٹیوں اور آرائشی اشیاء فروخت کرنے والی ایک اور کاروباری خاتون رضیہ آصف نے کہا کہ وہ بازار شروع ہونے سے پہلے تک اپنا سامان گھر سے فروخت کرتی تھیں۔

انہوں نے کہا۔ "ہم نے یہ دکان ایک ماہ پہلے کھولی تھی۔ ہمیں حکومت کی طرف سے اپنی مصنوعات کو مارکیٹ میں لانے کا موقع دیا گیا ہے۔"

عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے جی ڈی اے کے ڈائریکٹر ساجد ولی نے دریا کنارے واقع مارکیٹ کو ایک "ون اسٹاپ شاپ" قرار دیا جہاں خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مقامی دستکاری، جواہرات، خشک میوہ جات اور روایتی کھانے ارزاں قیمتوں پر خریدے جا سکتے ہیں۔

ولی نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ یہ مارکیٹ مستقبل قریب میں ایک پُررونق سیاحتی مقام کا کام دینے کے ساتھ ساتھ علاقے کی خواتین کو بااختیار بنائے گی۔

انہوں نے کہا، "ہم جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی خواتین کے پاس مہارت ہے۔"

30 ستمبر 2023 کی یہ تصویر پاکستان کے گلگت میں جواہرات اور دستکاری کی مارکیٹ کا ایک منظر پیش کرتی ہے۔ (اے این فوٹو)
30 ستمبر 2023 کی یہ تصویر پاکستان کے گلگت میں جواہرات اور دستکاری کی مارکیٹ کا ایک منظر پیش کرتی ہے۔ (اے این فوٹو)

"تاہم مواقع کی کمی کی وجہ سے ان کی تیار کردہ مصنوعات کی صرف ایک محدود تعداد ہی ہماری مارکیٹوں تک پہنچتی ہے۔ ان کے [گھریلو] کاروبار ہر وقت بہت آسانی سے نہیں چلتے۔ ہمیں ان چیزوں کا علم ہے اور ہم نے ان خواتین کو مناسب ریٹیل بازار میں لانے کی کوشش کی ہے۔"

گلگت ڈویژن میں خواتین ایوانِ صنعت و تجارت کی ایگزیکٹو ممبر مبارکہ گل نے کہا کہ علاقے کی خواتین کو اپنی اشیاء کی مارکیٹنگ اور فروخت کرنے میں پہلے مشکل ہوتی تھی۔

انہوں نے کہا، "تاریخ میں پہلی بار [گلگت میں] خواتین سخت سکیورٹی میں دوستانہ ماحول میں یہ کاروبار چلا سکتی ہیں۔ یہ ایک فیملی مارکیٹ ہے اور خاندان اس جگہ پر آتے اور دیکھتے ہیں۔"

گل نے مزید کہا، "ہمارے ذریعے تربیت یافتہ خواتین گلگت بلتستان کی حکومت اور خواتین ایوانِ صنعت و تجارت کی بدولت کامیاب ہوئی ہیں جنہیں براہِ راست مارکیٹ تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ ہمیں امید ہے کہ یہ مارکیٹ ایک کاروباری مرکز بن جائے گی۔"

گل نے عوام پر زور دیا کہ وہ فیملی ممبرز کے ساتھ نئے افتتاح شدہ تجارتی مرکز کا دورہ کریں اور فروخت ہونے والی مصنوعات کو دیکھیں۔

ایک مہمان سلطانہ کریم نے عرب نیوز کو بتایا، "میں نے یہ بازار دو تین بار دیکھا ہے۔" انہوں نے اپنے ڈرائنگ روم کے لیے یہاں سے کشن خریدے تھے۔

"یہاں آ کر ہر بار خوشی ہوتی ہے کیونکہ مصنوعات کی مختلف قسم دستیاب ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں