’’مارشل لا لگے تو سب ہتھیار ڈال دیتے ہیں، پارلیمان کچھ کرے تو حلف یاد آتا ہے‘‘

کمرہ عدالت میں بہت سی تصاویر لگی ہیں جو مارشل لا آنے پر حلف بھول جاتے ہیں: چیف جسٹس کے ریمارکس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہےکہ جب مارشل لاء لگتے ہیں تو ہتھیار پھینک دیتے ہیں، پارلیمان کچھ کرے تو سب کو حلف یاد آ جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جسٹس فائز عیسیٰ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023‘ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران آبزرویشن دیتے ہوئے کیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے تشکیل کردہ فل کورٹ بینچ نے’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023‘ کے خلاف دائر نو درخواستوں کی سماعت کی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 15 رکنی فل کورٹ بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

جس میں سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی آج کیس کا اختتام کریں، ایک کیس کو ہی لےکر نہیں بیٹھ سکتے، سپریم کورٹ میں پہلے ہی بہت سے کیس زیر التوا ہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ آج اس قانون کا اثر بالخصوص چیف جسٹس اور دو سینئر ججز پر ہو گا، اختیارات کو کم نہیں بانٹا جا رہا ہے، اس قانون کا اطلاق آئندہ کے چیف جسٹسز پر بھی ہو گا، چیف جسٹس کا اختیار اور پارلیمنٹ کا اختیار آمنے سامنے ہے، کچھ ججز سمجھتے ہیں پارلیمنٹ اور چیف جسٹس کا اختیار آمنے سامنے ہے، کچھ ایسا نہیں سمجھتے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ سب نے اپنے جوابات قلمبند کر دیے ہیں، ہمارے سامنے اٹارنی جنرل اور سینئر وکلا ہیں، سب کو سنیں گے۔

سماعت کے دورا اکرام چوہدری نے سابق وزیر اعظم سے متعلق خبر پڑھ کر سنائی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ خبریں نا پڑھیں جن کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، عدالت کو سیاسی بحث کے لیے استعمال نا کریں، میڈیا موجود ہے وہاں جا کر سیاست کریں، قانونی دلائل دیجیے، یہ دلیل دیں کہ پارلیمنٹ نے کیسے عدلیہ کا حق سلب کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کچھ لوگوں کا بھی خیال ہے اس قانون سے سپریم کورٹ اور پارلیمان آمنے سامنے آ گئے، میں لفظ جنگ استعمال نہیں کروں گا، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر اب قانون بن چکا ہے، حسبہ بل کبھی قانون بنا ہی نہیں تھا، پارلیمنٹ قانون سازی کر سکتا تھا یا نہیں اس بحث میں نہیں جانا چاہیے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آئین سے متصادم ہے یا نہیں یہ بتائیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدالت جب آئینی ترمیم بھی دیکھ سکتی ہے تو بات ختم ہو گئی، آپ کی دلیل ہےکہ آئینی ترمیم سے یہ قانون بن جائے تو ٹھیک ہے، جب آپ عدالت کی آزادی کی بات کرتے ہیں توکیا یہ آزادی از خود نایاب چیز ہے یا لوگوں کے لیے ہے؟

عدالت کی آزادی صرف اس کے اپنے لیے ہےکہ اس کا ہر صورت دفاع کرنا ہے؟ عدالت کی آزادی لوگوں کے لیے نہیں ہے؟ اس بات پر روشنی ڈالیں، اگرکل پارلیمنٹ قانون بناتی ہےکہ بیواؤں کےکیسزکو ترجیح دیں، کیا اس قانون سازی سے عدلیہ کی آزادی متاثرہوگی؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون سازی انصاف دینےکا راستہ ہموار اور دشوار کر رہی ہے تو یہ بتائیں، کیا ہماری آزادی خود ہی کافی ہے یا اس کا تعلق کسی اور سے بھی ہے؟

پارلیمنٹ اور عدلیہ الگ الگ آئینی ادارہ ہیں، اگر آپ نے اپنے معلومات تک رسائی کے حق کے تحت کارروائی کی درخواست نہیں کی تویہ دلیل مت دیں، آپ نے خود اسپیکر کو خط نہیں لکھا اور چاہتے ہیں پوری سپریم کورٹ بیٹھ کربے بنیاد دلیل سنے۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ انصاف تک رسائی کے لیے عدالت کو آزاد ہونا چاہیے، پہلے بتائیں ایکٹ سے انصاف تک رسائی کا بنیادی حق کیسے متاثر ہوتا ہے، درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے ہم بہت آگے نکل چکے ہیں،

سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب مارشل لاء لگتے ہیں سب ہتھیار پھینک دیتے ہیں، اس کمرے میں بہت سی تصاویرلگی ہیں جو مارشل لاء آنے پر حلف بھول جاتے ہیں، مارشل لاء لگے تو حلف بھلا دیا جاتا ہے، پارلیمان کچھ کرے تو سب کو حلف یاد آجاتا ہے، مارشل لاء کے خلاف بھی تب درخواستیں لایا کریں، وہاں کیوں نہیں آتے؟

اس عدالت نے کئی بار مارشل لا کی توثیق کی ہے، پارلیمنٹ نےکہا سپریم کورٹ کا اختیار بڑھا دیا گیا، پارلیمنٹ کہتی ہے انہوں نے ٹھیک قانون سازی کی، سپریم کورٹ کے 184 تین کے استعمال سے ماضی میں لوگوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔

چیف جسٹس نے وکیل سے سوال کیا کہ نظرثانی میں اپیل کا حق ملنے سےآپ کو کیا تکلیف ہے؟ اس پر وکیل حسن عرفان نے کہا کہ میرے قانون کی رسائی کا حق متاثر ہو گا، کل کو سماجی ومعاشی اثرات ہوں گے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مفروضوں کی نہیں حقیقت کی زبان جانتا ہوں، مولوی تمیز الدین سے شروع کریں یا نصرت بھٹو سے، انہوں نے کہا آئین کے ساتھ جو کھلواڑ کرنا چاہو کرو، پاکستان کے ساتھ کھلواڑ ہونے نہیں دے سکتے، پارلیمنٹ کی قدر کرنا چاہیے۔

چیف جسٹس کاکہنا تھاکہ فرد واحد نے اس ملک کی تباہی کی ہے، فرد واحد میں چاہے مارشل لاء ہو یا کوئی بھی، ہمیں آپس میں فیصلہ کرناہے، ججز سے آپ کو کیا مسئلہ ہے، ایک چیف جسٹس نے فیصلہ کیا، وہ ٹھیک ہے زیادہ کریں تو غلط ہے، یہ قانون ایک شخص کے لیے کیسے ہے، یہ بھی سمجھ نہیں آیا، سب بس پارلیمنٹ پر حملہ کر رہے ہیں، یہ دیکھیں قانون عوام کے لیے بہتر ہے یا نہیں۔

گذشتہ سماعت پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023‘ کے خلاف دائر نو درخواستوں پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو 25 ستمبر تک عدالتی سوالات کے جوابات کے ساتھ تحریری دلائل جمع کرنے کا حکم دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں