نور جہاں‘ کی موت کے بعد ’مدھو بالا‘ بھی بیمار’

جانوروں کے حقوق کے عالمی ادارے کو کراچی کے چڑیا گھر سے متعلق تشویش لاحق ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے سب سے بڑے اور ساحلی شہر کراچی میں مدھو بالا نامی ہتھنی کی صحت گرنے لگی۔ جانوروں کی بہبود سے متعلق اداروں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مدھو بالا کو اس کی صحت کے مسائل کے پیش نظر ایک کھلے اور نئے کمپاونڈ میں منتقل کرنے میں کراچی بلدیہ اور کراچی سفاری پارک سمیت چڑیا گھر کے حکام عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

جانوروں کی دیکھ بھال اور ان کے حقوق کے لئے سرگرم تنظیم نے اس بارے میں موقف اختیار کیا ہے کہ متعلقہ حکام جانوروں کی بہتر بود وباش اور صحت کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے میں بھی لیت ولعل سے کام لے رہے ہیں۔

واضح رہے تقریبا دو ماہ پہلے کراچی بلدیہ کے مئیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضی وہاب نے ماہ اگست میں مدھو بالا کی صحت سے متعلق خبروں کے بعد سفاری پارک کا دورہ کیا تھا اور مدھو بالا کو دیکھا تھا۔ مگر اس کے باوجود ابھی تک مدھو بالا کو نئی اور کھلی رہائش فراہم نہیں کی جاسکی جو اس کی اچھی صحت اور زندگی بچانے کے لئے لازمی ہے۔

مدھو بالا بھی عام لوگوں کی طرح غیر صحتمندانہ ماحول میں رہتے ہوئے بیمار پڑ چکی ہے اور اس کی صحت روز بروز گر رہی ہے۔ تاہم حکام کا انداز اس ہتھنی کی صحت کے بارے میں بھی تقریبا ویسا ہی ہے جیسا شہری اور انتظامی ذمہ داران عام طور پر انسانوں کے بارے میں اختیار کرتے ہیں۔

واضح رہے مدھو بالا ایک ایسی ہتھنی ہے جسے افریقہ سے پاکستان کے چڑیا گھروں کے لیے اس کے ساتھی جانوروں کے ساتھ لایا گیا تھا۔

اس کے ساتھیوں میں نور جہاں نامی ہتھنی اور کاوان بھی شامل تھے۔ جانوروں کے حقوق اور بہبود کے لئے عالمی سطح پر سرگرم ادارے، فور پاز، نے مدھو بالا کی حالت کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے۔ کیونکہ مدھو بالا پاکستان میں زندہ بچ گئے تین ہاتھیوں میں سے ایک ہے۔

اس کی قریبی ساتھی نورجہاں سترہ سال کی عمر میں کراچی چڑیا گھر میں بیمار ہو کر مر چکی ہے۔ نورجہاں کی موت پر میڈیا میں کافی شور رہا ۔ اس سے پہلے 2020 میں کاوان نامی ایک ہاتھی کو سخت تنہائی کا شکار ہوجانے کے بعد پاکستان کے ایک چڑیا گھر سے کمبوڈیا منتقل کر دیا گیا تھا۔

کاوان کی کمبوڈیا منتقلی میں جانوروں کے لئے کام کرنے والی عالمی تنظیم ، فور پاز ، نے اہم کردار ادا کیا تھا۔بعد ازاں پاکستانی عدالتوں نے بھی اس بارے میں نوٹس لیا تھا۔ نتیجتا کاوان کو اسلام آباد سے کمبوڈیا روانہ کر دیا گیا۔

لیکن مئیر کراچی کے مدھو بالا کو دیکھنے کے بعد، فور پاز، کو اس کی بہتر ماحول میں رہائش کی یقین دہانی کے باوجود ابھی تک کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

ہتھنی ایک تنگ سی رہائش میں مقیم ہے ۔ ویسے یہ کراچی میں معمول ہے ۔ لاکھوں انسان بھی اسی حال میں رہنے پر مجبور ہیں۔ البتہ جانوروں کا خیال رکھنے والےادارے کافی خساس ہیں۔ تاہم اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ، فور پاز ، کراچی انتظامیہ اور چڑیا گھر انتظامیہ کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے پر بھی عملی طور پر آمادہ نہیں کر سکی ہے۔

اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کا مطلب ہتھنی مدھو بالا کی بہتر رہائش اور اسے صحت مند ماحول میں منتقل کرنا قبول کرنا ہو گا۔

فور پاز، کا کہنا ہے کہ مدھو بالا کے مکان بنا کر دینے کا وعدہ کرنے والوں نے اب رابطے بھی توڑ دیے ہیں۔ دوسری جانب چڑیا گھر کراچی کے سینئر ڈائریکٹر اقبال نواز کا موقف ہے کہ ہتھنی کو نئی جگہ کھلا مکان بنا کر دینے کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ جب بھی ،فور پاز ، کی ٹیم کراچی آئے گی یادداشت پر دستخط ہو جائیں گے۔

اقبال نواز کے مطابق مدھو بالا کی حالت اچھی ہے اور اس دعوے میں صداقت نہیں کہ اس کی صحت خراب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں