پاکستان میں مقیم گیارہ لاکھ خلاف قانون غیر ملکیوں کی ملک بدری کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قومی ایپکس کمیٹی نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم تمام غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔

اس امر کا فیصلہ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت قومی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں ہوا، جس میں سول اور عسکری حکام، حساس اداروں کے سربراہان، چاروں صوبائی آئی جیز اور چیف سیکریٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

ایپکس کمیٹی نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم تمام غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔

ذرائع کے مطابق غیر قانونی غیر ملکیوں کو ملک سے نکل جانے کے لیے حتمی ڈیڈ لائن دیے جانے کا امکان ہے۔ تمام غیر ملکی متوقع ڈیڈ لائن تک تمام اثاثے فروخت کرنے اور اپنے وطن واپسی کے پابند ہوں گے۔

ڈیڈ لائن ختم ہونے پر غیر ملکیوں کو ملک بدر کر دیا جائے گا اور جائیدادیں بحق سرکار ضبط کر لی جائیں گی۔

ننگر ہار صوبے میں افغان شہری پاکستان اور اپنے ملک کے درمیان طورخم کا بند گیٹ کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ پاکستان داخل ہو سکیں۔ [اے ایف پی فائل فوٹو]
ننگر ہار صوبے میں افغان شہری پاکستان اور اپنے ملک کے درمیان طورخم کا بند گیٹ کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ پاکستان داخل ہو سکیں۔ [اے ایف پی فائل فوٹو]

پاکستان میں صرف “پروف آف رجسٹریشن” کے حامل افغان مہاجرین سکونت کے اہل ہوں گے۔ افغان شہری قانونی طور پر اجراء کردہ ڈیجیٹائزڈ “ای-تزکیرہ” پر ہی پاکستان کا سفر کر سکیں گے۔

ادھر باقاعدہ قانونی ویزا کے حامل افغان شہری بھی پاکستان کا سفر کرنے کے اہل ہوں گے۔ پاکستان میں مقیم تمام غیر قانونی افغان مہاجرین، شہریوں کو بھی ممکنہ ڈیڈ لائن تک اپنے ملک واپس جانا ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں