پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں گذشتہ برس کے مقابلے میں 71 فیصد اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان میں گذشتہ برس آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے بری طرح متاثر ہونے والی کپاس کی نقد آور فصل کی پیداوار کے مقابلے میں رواں سیزن میں اس میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 5.02 میلن گانٹھوں کی پیداوار سے اس سیزن کپاس کی پیدوارا میں 71 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

وفاقی وزارت تجارت کا تخمینہ ہے کہ اس سال کپاس کی ملکی پیداوار بارہ میلن بیلز تک ہو سکتی ہے جو ملکی معیشت کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ کپاس پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کا بنیادی خام مال ہے جو ملک کی مجموعی برآمدات میں تقریباً 60 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گذشتہ برس مون سون کے دوران ہونے والی طوفانی بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے ملک کے مختلف حصوں بالخصوص سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں مکانات، مال مویشی اور کھیتی باڑی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے تھے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق، سیلابی صورتحال نے کپاس کی فصل کو بہت بڑا دھچکا پہنچایا جس سے پیداوار تاریخی کمی کے ساتھ 4.9 میلن گانٹھوں تک رہ گئی تھی۔ جو کہ اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں 34 فیصد گر گئی تھی۔

تاہم، وزارت تجارت نے اپنے بیان میں کہا کہ "موجودہ سال میں کپاس کی پیداوار میں حیران کن 71 فیصد سالانہ ترقی" نے "نہ صرف پچھلے سال کے اعداد وشمار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے بلکہ یہ توقعات سے بھی زیادہ ہے۔"

عبوری وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "کپاس کی آمد تیس ستمبر 2023 کے اعداد شمار کے مطابق 50 لاکھ گانٹھوں کو عبور کرنا، پاکستان کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔" "گذشتہ سال، ہماری کل فصل 5 ملین گانٹھیں تھی، اور اس سال، ہم 12 ملین گانٹھوں کی بمپر فصل کی توقع کر رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ قابل ذکر ترقی ہمارے کسانوں کی لگن اور محنت کو ظاہر کرتی ہے۔‘‘

انہوں نے کپاس کے شعبے کو فروغ دینے کا بھی وعدہ کیا، ان کا کہنا تھا کپاس کی فصل نے ہمیشہ پاکستان کی اقتصادی ترقی اور ٹیکسٹائل کے شعبہ کی عالمی مسابقت میں "ناگزیر کردار" ادا کیا ہے۔

ٹیکسٹائل انڈسٹری کے سٹیک ہولڈرز کے مطابق مجموعی طور پر حالیہ برسوں میں ملک کی کپاس کی پیداوار سکڑ رہی ہے۔ پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں کمی بنیادی طور پر موسمیاتی تبدیلی سے متعلقہ مسائل اور کاشت کے رقبے میں کمی کی وجہ سے ہو رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں