پاکستان کا سرکاری کارپوریشنز کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کا اعادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے سرمایہ کاری کےاعلیٰ ادارے نے سرکاری کارپوریشنز کی نجکاری کو تیز کرنے کا عزم کیا ہے جس سے زرمبادلہ کے حصول کے ساتھ ساتھ قومی خزانے کو ہونے والے نقصانات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

پاکستان کی نگراں وفاقی انتظامیہ نے 21 ستمبر کو نجکاری کے لیے 10 خسارے کی شکار سرکاری کارپوریشنز کا علان کیا تھا۔ ان اداروں کی نجکاری کا فیصلہ، جس میں قومی پرچم بردار کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز بھی شامل ہے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ متفقہ تین بلین ڈالر کے بیل آئوٹ پیکج کے تحت مالیاتی نظم و ضبط کے فروغ پر مبنی پالیسی کا حصہ ہے۔

سول ملٹری شراکت داری کے تحت قائم ادارے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (اسپیشل انویسٹمنٹ فسلیٹیشن کائونسل) نے گذشتہ روز نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت اجلاس منعقد کیا۔ یہ ہائبرڈ ادارہ جون میں اہم اقتصادی شعبوں میں غیر ملکی بالخصوص خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا-

واضح رہے کہ سال 2020 تک خسارے میں چلنے والی سرکاری کارپوریشنز نے سالانہ پانچ سو ارب روپے کا نقصان کیا تھا۔

سرمایہ کاری میٹنگ کے بعد وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی نے نجکاری کے عمل کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے پر اتفاق رائے کیا ہے تاکہ ملک کے وسیع تر مفاد میں، قومی خزانے کو بار بار ہونے والے نقصانات کو کم کیا جاسکے۔ سپریم کمیٹی ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ جاری مذاکرات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔

پاکستان اپنے متعدد سرکاری اثاثوں کی بیرونی کمپنیوں کو آؤٹ سورسنگ آپریشنز پر بھی بات کر رہا ہے۔ اس حوالے سے مارچ کے مہینے میں اسلام آباد نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلائے جانے والے تین بڑے ہوائی اڈوں پر آپریشنز اور زمینی اثاثوں کی آؤٹ سورسنگ کا آغاز کیا تھاجس سے زرمبادلہ کے حصول میں مدد ملی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں