کراچی پورٹ ٹرسٹ معاہدہ، یو اے ای پانچ سالوں میں 102 ملین ڈالر ادا کرے گا: سینیٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندری امور کے اجلاس کے جاری کردہ منٹس میں بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات کراچی کی بندرگاہ پر بلک اور جنرل کارگو ٹرمینل کی تعمیر اور اسے چلانے کے لیے پانچ سالوں میں 102 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

متحدہ عرب امارات کی ایک معروف پورٹ آپریٹر ابوظبی پورٹس [اے ڈی پورٹس] نے کراچی پورٹ ٹرسٹ [کے پی ٹی] کے ساتھ کراچی میں ایک پورٹ ٹرمینل کی ہینڈلنگ کے لیے جون میں 50 سالہ رعایتی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

معاہدے کے تحت پاکستان انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل [پی آئی سی ٹی] کو ایک اکثریتی شیئر ہولڈر اے ڈی پورٹس گروپ اور متحدہ عرب امارات میں قائم ایک کمپنی کاہیل ٹرمینلز کے درمیان ایک مشترکہ منصوبے [جے وی] کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یہ مشترکہ منصوبہ کراچی پورٹ کے ایسٹ وارف میں برتھ 6-9 پر کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ (کے جی ٹی ایل) کا انتظام کرنے، چلانے اور ترقی دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔

اس مشترکہ منصوبے کے پہلے 10 سالوں میں پاکستان میں 220 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی۔

پاکستان سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندری امور کا اجلاس جمعرات کو ابوظبی پورٹ کے ساتھ رعایتی معاہدے پر بریفنگ کے لیے ہوا۔

میٹنگ کے منٹس میں انکشاف کیا گیا، "بریفنگ دی گئی کہ معاہدے کے لیے رعایتی مدت 25 سال ہے جس میں 18.00 امریکی ڈالر فی کراس برتھ موو اور 1,100 پاکستانی روپے مربع میٹر سالانہ زمینی کرایہ اور 50 ملین امریکی ڈالر کی پیشگی ادائیگی ہو گی۔"

"بریف کیا گیا کہ ٹرمینل آپریٹر کی طرف سے اگلے پانچ سالوں میں 102 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی۔"

پاکستان نے کہا ہے کہ ابوظبی بندرگاہوں کے ذریعے اس کے پورٹ ٹرمینل کو سنبھالنے سے جنوبی ایشیائی ملک کی آمدنی میں سالانہ 7 ملین ڈالر تک کا اضافہ ہوگا اور اس کے سمندری شعبے میں 2 بلین ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔

اے ڈی پورٹس کے مطابق مشترکہ منصوبے میں اگلے 10 سالوں میں انفراسٹرکچر اور سپر اسٹرکچر میں اہم سرمایہ کاری شامل ہوگی جس کا بڑا حصہ 2026 کے لیے طے شدہ ہے۔ ترقیاتی کاموں میں برتھوں کو گہرا کرنا، بندرگاہی پلیٹ فارم کی دیواروں کی توسیع، اور کنٹینر ذخیرہ کرنے کے علاقے میں اضافہ شامل ہے۔ نتیجتاً ٹرمینل 8,500 ٹی ای یوز (20 فٹ مساوی یونٹس) تک کے پوسٹ پینامیکس کلاس کے جہازوں کو سنبھال سکے گا اور کنٹینر کی گنجائش 750,000 سے بڑھ کر ایک ملین ٹی ای یوز سالانہ ہو جائے گی۔

متحدہ عرب امارات کے پورٹ آپریٹر نے پاکستان میں دو بلین ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری میں بھی دلچسپی ظاہر کی جس میں ملک کی دو اہم بندرگاہوں کے درمیان ریلوے لنک بھی شامل ہے۔

بندرگاہ کا معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب معاشی بحران سے دوچار پاکستان شدت سے بیرونی مالی امداد کا متلاشی ہے۔

جون میں پاکستان نے ایک سول ملٹری فورم سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) قائم کیا جو خاص طور پر خلیجی ممالک سے غیر ملکی فنڈنگ کو راغب کرے۔ اس کے لیے افسرشاہی طریقۂ کار کو ہموار اور پاکستان میں آپریشن شروع کرنے کے خواہاں کاروباروں کے لیے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنایا جائے گا۔

سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایس آئی ایف سی نے پانچ اہم شعبوں کو ترجیح دی ہے جن میں زراعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، دفاعی پیداوار، اور توانائی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں