پاکستان نے 40 برس تک افغان مہاجرین کو پناہ دی، اب واپس بھیجنا غلط نہیں: وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غیر قانونی پناہ گزینوں کو واپس ان کے ملکوں میں بھیجنا جائز ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں کو یکم نومبر سے زبردستی نکالنے کے خالیہ پاکستانی فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

ان کا ہانگ کانگ کے ’’فونیکس‘‘ ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ کوئی ملک بھی اپنی سرزمین پر غیر ملکیوں کی غیر قانونی آمد اور موجودگی قبول نہیں کرتا۔ پاکستان نے بھی یہ فیصلہ بین الاقوامی سطح پر جاری معمول کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔

ادھر افغانستان میں طالبان حکومت نے پاکستان کے اس اعلان کو ناقابل قبول قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کو افغان مہاجرین کو جبری طور پر نہیں نکالنا چاہیے۔

واضح رہے پاکستان میں افغان مہاجرین کی مجموعی تعداد چوالیس لاکھ ہے، ان میں سے 17 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین غیر قانونی طور پر مقیم ہیں اور ان کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہیں ہیں۔

 پاکستان کے وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی ہانگ کانگ کے فونیکس ٹی وی کو انٹرویو دے رہے ہیں: سکرین گریب فوٹو
پاکستان کے وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی ہانگ کانگ کے فونیکس ٹی وی کو انٹرویو دے رہے ہیں: سکرین گریب فوٹو

پاکستان میں رواں سال کے دوران ہونے والے دہشت گردی کے 24 واقعات میں سے 14دہشت گردانہ کارروائیوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کا بتایا جاتا ہے۔ افغان مہاجرین کے علاوہ بعض دوسرے ملکوں کے غیر قانونی مہاجرین بھی پاکستان میں موجود ہیں۔

وزیر خارجہ پاکستان نے کہا بغیر کسی قانونی دستاویز کے پاکستان میں مقیم پناہ گزینوں کے معاملے پر پاکستان نے بار ہا افغانستان کے ساتھ بات کی ہے۔ اس کے بعد اب مجبور ہو کر یہ فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کے اس فیصلے کو غیر قانونی تارکین وطن کے بارے میں بین الاقوامی طریقے کی حمایت حاصل ہے۔ کیونکہ کوئی ملک بھی غیر قانونی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں برداشت نہیں کرتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جلیل عباس جیلانی نے کہا کوئی ملک خواہ اس کا تعلق یورپ سے ہو یا ایشیا سے اپنے ہاں کسی فرد کا غیر قانونی قیام برداشت نہیں کرتا ہے۔ جبکہ پاکستان انیس سو ستر کی دہائی سے اپنی سرزمین پر افغان مہاجرین کو خوش آمدید کہتا آیا ہے۔ لیکن اب چالیس سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں بھی اب امن و استحکام آ ہو چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں