پاکستانی بائیکرز'دنیا کی سب سے آرام دہ سواری' ہارلے ڈیوڈسن کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

وہ خود کو ہارلے اونرز گروپ پاکستان کہتے ہیں جو 120 بائیکرز کی ایک کمیونٹی ہے جسے موٹر سائیکلنگ کی ہر جگہ موجود علامت - ہارلے ڈیوڈسن - کی سواری کے لیے ان کی مشترکہ محبت نے یکجا کر دیا ہے۔

گذشتہ ہفتے پاکستانی مہم جوئی کے گروپ نے اپنی شاندار ہارلے ڈیوڈسن موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر زندگی بھر کے سفر کا آغاز کیا جو بلند و بالا پہاڑوں، برفانی جھیلوں اور سرسبز وادیوں کے پس منظر میں ملک کے دلکش شمالی علاقہ جات میں تھا۔

کلب کے بانی شیراز قریشی نے اس ہفتے کراچی میں ایک انٹرویو میں عرب نیوز کو بتایا، "ہم اپنے آپ کو ہارلے ڈسٹرکٹ کہتے ہیں، ہم خود کو ایچ او جی پاکستان کا ہیڈ کوارٹر بھی کہتے ہیں۔"

"ایچ اور جی ایک مخصوص طرز زندگی کو فروغ دے رہا ہے۔ یہ بائیکر کے طرز زندگی کی طرح ہے۔ کسی بائیکنگ گروپ یا بائیکرز گروپ کی بھی اتنی بھرپور تاریخ نہیں ہے۔"

امریکہ اور یورپی ممالک کے برعکس پاکستان میں بائیکنگ کا وسیع کلچر نہیں ہے لیکن موٹرسائیکل کے شوقین ایچ او جی جیسے نجی کلبوں کے ذریعے اس جذبے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ قریشی نے دس سال قبل اس گروپ کی بنیاد رکھی تھی اور تب سے اب تک انہوں نے 100 سے زیادہ نئے ممبران کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے جو اس مشہور موٹر سائیکل اور اس کے ارد گرد کی ثقافت سے اپنی محبت کی وجہ سے مجتمع ہوئے ہیں۔

ایچ او جی کے ایک 29 سالہ رکن ہمایوں میر نے کہا، "بائیک چلانا ازخود ایک طرح کا مراقبہ ہے۔ میں نے اس کے ساتھ سواری شروع کی اور جس چیز نے واقعی مجھے اپنی طرف متوجہ کیا وہ ماحول تھا اور یہ کہ وہ دراصل اپنی بائک چلاتے کیسے ہیں۔ اس میں بہت نظم و ضبط ہوتا ہے. آپ کو ایک دوسرے سے آگے نکلنے، گڑبڑ کرنے، کسی بھی قسم کے اسٹنٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔"

قریشی نے وضاحت کی کہ ہارلے سوار یا مالک اور دوسری بائیک کے شوقین افراد کے درمیان بنیادی فرق تھا، طویل سفر پر توجہ مرکوز کرنا۔

کلب کے بانی نے کہا، "ہر بار جب ہم روانہ ہوتے ہیں تو یہ 100 کلومیٹر سے کم نہیں ہوتا۔ ہم سپر ہائی وے، قومی شاہراہ، بلوچستان [صوبہ]، کوسٹل ہائی وے کی طرف نکلتے ہیں۔"

گروپ کا تازہ ترین طویل سفر گلگت بلتستان کا تھا جہاں دنیا کی چند بلند ترین چوٹیاں ہیں، جن میں کے ٹو بھی شامل ہے جو عالمی سطح پر دوسری بلند ترین پہاڑی چوٹی ہے۔

قریشی نے کہا۔ "وہاں جو سڑکیں ہیں، جس طرح کے پہاڑی قطعات اور ان کی خوبصورتی اور آپ کے اطراف میں جنگلوں میں بہتے ہوئے دریاؤں والے برف پوش پہاڑ ہیں، ایسے مناظر کے ساتھ اس قسم کا مرکب، مجھے نہیں لگتا کہ کسی کو بھی دنیا میں کہیں بھی ایسے مناظر دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔"

میر نے کہا، "میں [شمالی خطے میں] پہلے بھی تقریباً چار پانچ بار جا چکا ہوں۔ لیکن موٹر سائیکل پر وہاں جانا میرے لیے ایک نئے تجربے کی طرح تھا۔ کیونکہ 360 ڈگری منظر کے ساتھ میں سب کچھ صرف ایک نظر میں دیکھ سکتا تھا۔"

میر نے کہا کہ یہ تجربہ "اس قدر افسانوی" تھا کہ سفر کے دوران کئی بار ان کے آنسو بہہ گئے۔

"میں ساری زندگی، اور سارا بچپن ایسا کرنے کا خواب دیکھتا تھا۔ اور آخر کار مجھے واقعی ایسا کرنے کا موقع مل گیا۔

قریشی نے مزید کہا: "یہ دنیا کی سب سے زیادہ تسکین بخش سواری تھی۔ یہ وہ سفر ہے جس کے لیے شاید دنیا کا ہر بائیکر مرتا ہو گا۔"

لیکن مالی مشکلات اس قسم کے سفر کو مزید مشکل بنا رہی ہیں کیونکہ پاکستان ایندھن اور توانائی کی بلند قیمتوں سے پریشان ہے۔

3 بلین ڈالر کے آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکج کے لیے درکار اصلاحات بشمول درآمدی پابندیوں میں نرمی اور سبسڈیز کو ہٹانے کے مطالبے نے پہلے ہی سالانہ افراطِ زر کو ہوا دی ہے جو مئی میں ریکارڈ 38.0 فیصد تک بڑھ گئی۔ شرحِ سود بھی بڑھ کر 22 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور ستمبر میں بحالی سے پہلے روپیہ اگست میں اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ پاکستان نے گذشتہ ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی ریکارڈ اضافہ کیا۔

قریشی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "ہارلیز بہت مہنگی رہی ہیں۔ انہیں اب بھی بہت مہنگا سمجھا جاتا ہے۔ اور ڈالر کے مقابلے روپے کے حالیہ انحطاط کے ساتھ قیمت واقعی بڑھ گئی ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں